امریکہ پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات میں وسعت چاہتا ہے، امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ واشنگٹن پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ تعاون کو انسدادِ دہشت گردی سے آگے بڑھا کر تجارت، معیشت اور علاقائی استحکام تک لے جانا امریکی ترجیحات میں شامل ہے۔

US Secretary of State Marco Rubio says Washington wants a deeper strategic relationship with Pakistan expanding cooperation beyond counterterrorism into trade, economy and regional stability. — FILE/THE WHITE HOUSE
US Secretary of State Marco Rubio says Washington wants a deeper strategic relationship with Pakistan expanding cooperation beyond counterterrorism into trade, economy and regional stability. — FILE/THE WHITE HOUSE

واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں حالیہ بہتری کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔

مارکو روبیو نے نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو بڑھانے کا ایک اہم موقع دیکھ رہے ہیں، اور میری رائے میں اس سمت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان انسدادِ دہشت گردی اور سکیورٹی کے میدان میں طویل شراکت داری رہی ہے، تاہم واشنگٹن اب اس تعاون کو ان شعبوں سے آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔

روبیو کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ تعلقات محض انسدادِ دہشت گردی تک محدود نہ رہیں بلکہ تجارت، معیشت اور علاقائی استحکام جیسے شعبوں تک پھیلیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس راستے میں کچھ مشکلات ضرور ہوں گی، مگر یہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکو روبیو کا یہ بیان جنوبی ایشیا میں بدلتے ہوئے سفارتی منظرنامے میں ایک نئے باب کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں واشنگٹن اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو ازسرِنو ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہے۔∎

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

اس ڈیسک کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔