تجزیہ:  غزہ میں امن اور پاکستان کا کردار: مذاکرات کی میز پر موجودگی کیوں ضروری ہے

غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔

spot_imgspot_img

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — غزہ کی موجودہ صورتحال نے عالمی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے جہاں محض بیانات نہیں بلکہ عملی سفارت کاری اور فیصلہ سازی کے عمل میں شمولیت ہی فلسطینی عوام کے لیے حقیقی ریلیف کا راستہ بن سکتی ہے، اور اسی تناظر میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

عالمی منظرنامہ اور مسلم دنیا کا مشترکہ مؤقف

غزہ میں جاری انسانی بحران نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ عالمی منظرنامے پر نظر دوڑائی جائے تو ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، قطر اور انڈونیشیا سمیت متعدد مسلم ممالک مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی یکطرفہ حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر چکے ہیں۔ پاکستان بھی انہی ممالک کے ساتھ مل کر فلسطینی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے آگے بڑھ رہا ہے، کیونکہ مسلم امہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ غزہ میں امن کا کوئی بھی قابلِ عمل منصوبہ ہی موجودہ بحران کے خاتمے اور پائیدار حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

عالمی طاقتیں اور فیصلہ سازی کی حقیقت

اگر عالمی سطح پر طاقت کے مراکز اور فیصلہ سازی کے نظام کو دیکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ غزہ سے متعلق کسی بھی عملی پیش رفت کے لیے بڑی عالمی طاقتوں کی شمولیت ناگزیر ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے پیش کیا گیا غزہ پیس پلان اور بورڈ آف پیس اسی تناظر میں اہمیت اختیار کرتے ہیں۔ اس منصوبے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی براہِ راست شمولیت اسے عملی طور پر آگے بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ بناتی ہے، کیونکہ خطے میں طاقت کے توازن اور اسرائیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت اب بھی بڑی حد تک امریکہ کے پاس موجود ہے۔

پاکستان کے لیے ایک نیا سفارتی موقع

ان حالات میں پاکستان کے لیے یہ ایک اہم اور غیر معمولی موقع ہے کہ اسے پہلی بار غزہ تک براہِ راست سفارتی اور انسانی سطح پر رسائی حاصل ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب صرف علامتی شرکت نہیں بلکہ عملی کردار ادا کرنے کا موقع ہے۔ اگر پاکستان واقعی فلسطینی عوام کی مدد کرنا چاہتا ہے تو اسے انہی فورمز پر موجود ہونا ہوگا جہاں فیصلے کیے جاتے ہیں، کیونکہ حقیقی امداد، بحالی کے منصوبے اور سیاسی فیصلے وہیں طے پاتے ہیں۔

پاکستان کا تاریخی مؤقف اور بدلتی صورتحال

پاکستان ہمیشہ فلسطین کے حق میں کھڑا رہا ہے۔ اخلاقی، سیاسی اور سفارتی سطح پر پاکستان کی حمایت واضح اور مستقل رہی ہے، تاہم خطے کی سیاست اور عالمی طاقتوں کے توازن کی وجہ سے پاکستان براہِ راست عمل کا حصہ کم بن پاتا تھا۔ سات اکتوبر 2023 کے بعد بدلتی ہوئی صورتحال نے مسلم ممالک کو ایک مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر مجبور کیا ہے، اور ایسے وقت میں پاکستان کا اس اتحاد کا حصہ بننا ناگزیر ہو گیا ہے۔

جذباتی بیانیہ یا عملی اقدامات؟

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صرف جذباتی تقاریر، احتجاج یا نعرے بازی غزہ کے عوام کی مشکلات کم نہیں کر سکتی۔ جنگ بندی، تباہ شدہ عمارتوں کی تعمیر نو، ہسپتالوں کی بحالی اور متاثرہ افراد کو خوراک و علاج کی فراہمی کے لیے وسائل، منصوبہ بندی اور بین الاقوامی تعاون درکار ہوتا ہے۔ اگر پاکستان اس عمل کا حصہ بنتا ہے تو وہ نہ صرف آواز اٹھا سکتا ہے بلکہ عملی طور پر بحالی کے کاموں میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔

مذاکرات سے دوری کے نقصانات

کچھ حلقوں کی جانب سے اس عمل پر اعتراض کیا جاتا ہے، مگر بنیادی سوال یہی ہے کہ اگر پاکستان مذاکرات کا حصہ نہ بنے تو اس کا کردار کیا رہ جائے گا؟ جب مسلم دنیا کے بڑے ممالک اس عمل میں شامل ہیں تو پاکستان کس بنیاد پر خود کو اس سے الگ رکھ سکتا ہے؟ عالمی سیاست میں وہی ممالک مؤثر ہوتے ہیں جو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہوں۔ اگر پاکستان میز پر موجود نہیں ہوگا تو اپنا مؤقف مؤثر انداز میں کیسے پیش کرے گا؟

فلسطین کاز اور عملی سفارت کاری کی ضرورت

اگر پاکستان اس فورم سے دور رہتا تو نہ وہ فلسطینیوں کے حق میں مؤثر آواز اٹھا سکتا اور نہ ہی مقبوضہ علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے جیسے اقدامات کی مؤثر مخالفت کر سکتا۔ خالی میدان چھوڑ دینے کا مطلب یہ ہوتا کہ فیصلے یکطرفہ طور پر کیے جاتے اور فلسطینی کاز مزید کمزور ہو جاتا۔ اس لیے مذاکرات میں شمولیت دراصل فلسطینی مؤقف کو مضبوط بنانے کا ایک عملی راستہ ہے۔

پاکستان کا ممکنہ عالمی کردار

غزہ امن منصوبے کے تناظر میں پاکستان کو دہائیوں بعد ایک ایسا موقع ملا ہے جہاں اسے عالمی سطح پر ایک اسٹیبلائزنگ فورس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 1974 کی او آئی سی کانفرنس کے بعد شاید پہلی بار پاکستان کو فلسطین کے مسئلے پر اتنی براہِ راست سفارتی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ یہ موقع پاکستان کو نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ انسانی بنیادوں پر بھی مؤثر کردار ادا کرنے کا امکان فراہم کرتا ہے۔

نتیجہ: مذاکرات کی میز ہی اصل راستہ

آخرکار سوال یہی ہے کہ پاکستان فلسطینی عوام کی زیادہ مؤثر مدد کیسے کر سکتا ہے — مذاکرات کا حصہ بن کر یا الگ رہ کر؟ واضح جواب یہی ہے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر ہی فلسطین کے حق میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ خاموش تماشائی بننے کے بجائے مذاکرات کی میز پر موجود رہنا ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق، ان کے دیرینہ مطالبات اور ایک منصفانہ حل کے لیے عملی پیش رفت یقینی بنا سکتا ہے۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

spot_img

خبریں

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

More from The Thursday Times

error: