پیرس (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے خطہ کی سیکیورٹی صورتحال، افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں اور پاکستان کو درپیش خطرات کے حوالہ سے سخت مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف دہشتگرد حملوں کو کابل میں طالبان حکومت اور بھارت کی مبینہ ملی بھگت سے چھیڑی جانے والی ایک ایسی ’’پراکسی جنگ‘‘ قرار دیا ہے جس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی داخلی سلامتی پر مرتب ہو رہے ہیں۔
پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملے کابل میں طالبان حکومت اور انڈیا کی ملی بھگت سے چھیڑی جانے والی ’پراکسی جنگ‘ کا نتیجہ ہیں۔ افغانستان اور بھارت ایک ہی صفحے پر ایک ہی حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہے ہیں، اور میرا مؤقف یہ ہے کہ دہلی کابل کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں پر اکساتا ہے۔… pic.twitter.com/37J5dhzjC2
— The Thursday Times (@thursday_times) February 18, 2026
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے فرانسیسی خبر رساں ادارے ’’فرانس24‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردی کے کئی بڑے نیٹ ورکس موجود ہیں جن میں ٹی ٹی پی اور داعش جیسے گروہ شامل ہیں جبکہ اُنہیں سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں اور اگر افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں تو اُس کی ذمہ داری کابل حکومت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ عملی طور پر افغانستان پر کنٹرول اُنھی کے پاس ہے اور دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے سنجیدگی کے بجائے عدم دلچسپی یا ممکنہ طور پر خاموش معاونت صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان ضرورت پڑنے پر افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن رکھتا ہے جو صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے، تاہم اگر کابل حکومت واقعی امن کی ضمانت دے اور سرحد پار حملوں کو روکے تو کشیدگی اور محاذ آرائی سے بچا جا سکتا ہے، پاکستان تصادم نہیں چاہتا مگر اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا بھی نہیں کرے گا۔
پاکستان ضرورت پڑنے پر نہ صرف افغانستان کے سرحدی علاقوں بلکہ افغانستان کے اندر کابل اور قندھار تک کارروائی کر سکتا ہے، اور یہ آپشن ہمارے پاس موجود ہے۔ اگر کابل واقعی امن کی ضمانت دے اور سرحد پار حملوں کو روکے تو محاذ آرائی کی نوبت نہیں آئے گی، مگر جب وہ سرپرستی کریں یا خاموشی سے… pic.twitter.com/Hsj5WKzIW4
— The Thursday Times (@thursday_times) February 18, 2026
اُنہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان اور بھارت ایک ہی حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہے ہیں اور دہلی کابل کو پاکستان کے خلاف اقدامات پر اکساتا ہے۔ اگرچہ بھارت ایسے تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے تاہم پاکستانی وزیرِ دفاع کے مطابق پاکستان کیلئے موجودہ صورتحال کے نتائج حقیقی اور سنگین ہیں لہذا اِسے ایک پراکسی جنگ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت کے ساتھ گزشتہ برس ہونے والی چار روزہ جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے ڈیفینس منسٹر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج بالخصوص پاک فضائیہ نے ہر قسم کی دراندازی یا حملے کی کوشش کو ناکام بنایا اور پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم کو خاک میں ملایا۔ خواجہ آصف کے مطابق پاکستان زمینی رقبہ اور عسکری وسائل کے اعتبار سے چھوٹا ہونے کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیت ثابت کر چکا ہے۔
خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ خطہ میں پائیدار امن اُسی وقت ممکن ہے جب سرحد پار دہشتگردی کا خاتمہ ہو اور ریاستیں اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔ پاکستان کے مطابق فی الحال بنیادی ترجیح قومی سلامتی کا تحفظ اور خطہ میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع کی جانب سے اِس نوعیت کے بیانات پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کالعدم بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) کی جانب سے حالیہ منظم حملوں کے تناظر میں سیاسی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ بلوچستان میں دہشتگرد واقعات کے دوران بی ایل اے دہشتگرد مبینہ طور پر براہِ راست افغانستان میں اپنے ہینڈلرز کے ساتھ رابطے میں تھے۔




