دوحہ (تھرسڈے ٹائمز) — قطر میں قائم بین الاقوامی نیوز نیٹ ورک ’’الجزیرہ‘‘ نے غزہ میں اسرائیل اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جابرانہ اقدامات اور آمرانہ پالیسیز میں مماثلت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات محض دوستی، تجارت اور فوجی شراکت داری تک محدود نہیں رہے بلکہ نئی دہلی طرزِ حکمرانی میں بھی اسرائیل کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران بی جے پی کے برسرِ اقتدار ہوتے ہوئے متعدد بھارتی ریاستوں میں سینکڑوں مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو مسمار کیا گیا اور کئی مساجد بھی منہدم کی گئیں جبکہ یہ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ طریقہ کار اسرائیل کی پالیسیز سے مشابہ ہے۔ اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں ہزاروں فلسطینی گھروں کو منہدم کیا ہے اور اُن کے مکینوں کو بےدخل کیا ہے تاکہ اسرائیلی آبادکاری کیلئے جگہ بنائی جا سکے۔ غزہ میں اسرائیل کی حالیہ جنگ کے دوران بھی فلسطینی علاقوں میں گھروں، دفاتر، ہاسپٹلز، سکولز، جامعات اور عبادت گاہوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا یا تباہ کیا گیا۔
دوحہ میں قائم قطری نیوز میڈیا آرگنائزیشن ’’الجزیرہ‘‘ نے لکھا ہے کہ نومبر 2019 میں ایک نجی تقریب کے دوران نیو یارک میں بھارت کے اُس وقت کے قونصل جنرل سندیپ چکروورتی کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں وہ نئی دہلی کیلئے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ’’اسرائیلی ماڈل‘‘ اپنانے کی وکالت کر رہے تھے۔
اُس وقت کشمیر میں لاکھوں افراد سخت فوجی لاک ڈاؤن اور مواصلاتی بلیک آؤٹ کے باعث شدید مشکلات کا شکار تھے۔ چند ماہ قبل بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی ہندو اکثریتی حکومت نے خطہ کی نیم خودمختار آئینی حیثیت ختم کر دی تھی۔ ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا جن میں سیاسی راہنما بھی شامل تھے، حتیٰ کہ وہ راہنما بھی جو بھارت کے حامی سمجھے جاتے تھے۔
سینیئر بھارتی سفارت کار مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی دائیں بازو کی آبادکاری پالیسیز کا حوالہ دے رہے تھے اور اُسے اُن ہزاروں کشمیری ہندوؤں کی دوبارہ آبادکاری سے جوڑ رہے تھے جو 1989 میں بھارتی حکمرانی کے خلاف شروع ہونے والی مسلح بغاوت کے بعد اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔
چکروورتی نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’یہ مشرقِ وسطیٰ میں ہو چکا ہے، اگر اسرائیلی لوگ یہ کر سکتے ہیں تو ہم بھی کر سکتے ہیں‘‘۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت ایسا کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔
الجزیرہ کے مطابق 6 سال گزرنے کے بعد چکروورتی کے یہ الفاظ پہلے سے زیادہ معنی خیز محسوس ہوتے ہیں۔ نریندر مودی کے 25 فروری سے شروع ہونے والے اسرائیل کے دوسرے دورے کے تناظر میں دونوں ممالک کے تعلقات صرف دوستی، تجارت اور فوجی شراکت داری تک محدود نہیں رہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں حکومتیں طرزِ حکمرانی کے بعض پہلوؤں میں بھی غیر معمولی حد تک ایک دوسرے کے قریب آ چکی ہیں۔
مودی کے دور میں بھارت نے کھل کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے ہیں جس کو بعض ماہرین فلسطینی کاز کیلئے بھارت کی تاریخی حمایت سے انحراف قرار دیتے ہیں۔ نئی دہلی نے، بالخصوص 2014 میں مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد، اسرائیل کے سیکیورٹی اور انتظامی ماڈل کے کئی طریقوں کو اپنی داخلی پالیسیز میں بھی شامل کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اِن بڑھتے ہوئے تعلقات کی بنیاد ایک مشترکہ نظریاتی ویژن پر ہے۔ مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہندوتوا فلسفہ سے جڑی ہوئی ہے جو بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانے اور دنیا بھر کے ہندوؤں کا مرکزی وطن قرار دینے کی بات کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے اسرائیل خود کو یہودی وطن تصور کرتا ہے۔
بھارت اور اسرائیل کے مابین اتحاد کے حوالہ سے 2023 میں لکھی گئی ایک کتاب کے مصنف ’’آزاد عیسیٰ‘‘ کہتے ہیں: ’’مودی کے دور میں بھارت اور اسرائیل کا تعلق دو ایسے نظریات کا اتحاد ہے جو خود کو تہذیبی منصوبے سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کو آبادیاتی اور سیکیورٹی خطرہ تصور کرتے ہیں‘‘۔
اُنہوں نے ’’الجزیرہ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’یہ دوستی اِس لیے کامیاب ہے کیونکہ دونوں کے مقاصد میں بالادستی کا عنصر مشترک ہے، مودی کے دور میں بھارت اور اسرائیل سٹریٹیجک شراکت دار بن گئے اور دہلی نے اسرائیل کو ایک نمونے اور ایک عظیم طاقت بننے کی سمت میں کلیدی عنصر کے طور پر دیکھنا شروع کیا‘‘۔
بلڈوزر انصاف کی پالیسی
بھارت کی جانب سے اسرائیل سے متاثرہ پالیسیز کی سب سے نمایاں مثال بی جے پی کی مبینہ ’’بلڈوزر انصاف‘‘ پالیسی سمجھی جاتی ہے۔
گزشتہ دہائی کے دوران بی جے پی کے برسرِ اقتدار ہوتے ہوئے متعدد ریاستوں میں سینکڑوں مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو مسمار کیا گیا اور کئی مساجد بھی منہدم کی گئیں۔ یہ کارروائیاں زیادہ تر قانونی نوٹس جاری کیے بغیر کی گئیں اور اکثر یہ اقدامات مذہبی کشیدگی، مودی حکومت کی پالیسیز کے خلاف احتجاج یا کسی ایسے مقامی جھگڑے کے بعد کیے گئے جو مذہبی رنگ اختیار کر گیا تھا۔
بی جے پی کے سرکردہ راہنماؤں میں سے ایک ’’یوگی آدتیہ ناتھ‘‘ جو بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ ہیں، اپنے حامیوں میں ’’بلڈوزر بابا‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ طریقہ کار اسرائیل کی پالیسیز سے مشابہ ہے۔ اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں ہزاروں فلسطینی گھروں کو منہدم کیا ہے اور اُن کے مکینوں کو بےدخل کیا ہے تاکہ اسرائیلی آبادکاری کیلئے جگہ بنائی جا سکے۔ غزہ میں اسرائیل کی حالیہ جنگ کے دوران بھی فلسطینی علاقوں میں گھروں، دفاتر، ہاسپٹلز، سکولز، جامعات اور عبادت گاہوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا یا تباہ کیا گیا۔
سیاسیات کے ماہر سمنترا بوس کہتے ہیں: ’’ہندو قوم پرستانہ نظریہ صہیونیت اور اسرائیل سے گہری وابستگی رکھتا ہے، آر ایس ایس کے کئی نسلوں پر مشتمل کارکنان، جن میں مودی بھی شامل ہیں، اِسی نظریہ میں تربیت پاتے رہے ہیں اور اسرائیل سے وابستگی اُن کے فکری ڈھانچے کا حصہ بن چکی ہے‘‘۔
سمنترا بوس کہتے ہیں کہ اسرائیل کی قوم پرستانہ اور اکثریتی ریاست کا تصور وہ ماڈل ہے جس کو ہندو قوم پرست مودی کے دور میں بھارت میں نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ’’اسرائیلی تصور مودی حکومت کی متعدد پالیسیز اور اقدامات میں جھلکتا ہے‘‘۔
الجزیرہ کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں بھارت میں مسلمانوں کو مختلف سماجی بائیکاٹس کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اُن کیلئے کرائے پر گھر حاصل کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، مسلم بچوں کو سکولز میں ہراسانی اور امتیازی سلوک کا سامنا رہتا ہے اور کئی دیہات ایسے ہیں جہاں حملوں کے بعد مسلم برادری بڑی حد تک نقل مکانی کر چکی ہے۔
نومبر 2024 میں بھارت کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ حکومت کسی بھی شخص کی جائیداد، چاہے وہ کسی جرم کے الزام میں ہی کیوں نہ ہو، قانونی طریقہ کار اختیار کیے بغیر مسمار نہیں کر سکتی۔ تاہم زمینی سطح پر مسمار کیے جانے کی ایسی کارروائیاں جاری رہیں۔
آزاد عیسیٰ کے مطابق بھارت اور اسرائیل دونوں گھروں اور املاک مسمار کرنے کو مخصوص آبادیوں کو نشانہ بنانے، سزا دینے اور ایک سیاسی پیغام دینے کیلئے استعمال کرتے ہیں، خاص طور پر یہ واضح کرنے کیلئے کہ کون قوم کا حصہ سمجھا جائے گا اور کون باہر کا فرد تصور ہو گا۔
سکیورٹی نظریہ کا سایہ
بھارت اور اسرائیل کے دوطرفہ تعلقات میں دفاعی تعاون اور مشترکہ سیکیورٹی نظریہ مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ بھارت اسرائیلی اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اربوں ڈالرز کی خریداری کر چکا ہے۔
الجزیرہ نے لکھا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران بھارت نے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کیا۔ اسرائیل نے بھارتی فوج کے ساتھ مشترکہ تربیتی سیشن منعقد کیے اور ڈرونز، فضائی دفاعی نظام، جدید ریڈار اور نگرانی کی ٹیکنالوجی سمیت متعدد نظام فراہم کیے۔
لیکن ایک انتہائی سیکیورٹائزڈ بھارتی ریاست کے حامیوں کے نزدیک اسرائیل کی کشش صرف جدید اسلحہ تک محدود نہیں۔
پہلگام واقعہ، پاک بھارت کشیدگی
بھارتی مقبوضہ کشمیر میں 22 اپریل 2025 کو ایک سیاحتی مقام پہلگام میں مسلح افراد کے حملے میں 26 شہری ہلاک ہوئے جس کے بعد بھارت نے اِس حملے کا الزام اسلام آباد پر عائد کرتے ہوئے پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں متعدد مقامات پر بمباری کی۔
پاکستان نے کسی بھی طرح سے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی اور جوابی کارروائی کرتے ہوئے میزائلز اور ڈرونز داغ دیئے۔ یوں دونوں ایٹمی طاقتیں چار روز تک شدید فضائی جنگ میں ملوث رہیں۔
اِسی دوران بھارتی ٹی وی چینلز پر اسرائیل کا بار بار حوالہ دیا گیا۔ ایک معروف اینکر ’’ارنب گوسوامی‘‘ نے کہا کہ 22 اپریل بھارت کیلئے وہی ہے جو 7 اکتوبر اسرائیل کیلئے تھا۔
پروگرام میں شامل ایک مہمان نے مطالبہ کیا: ’’ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کو غزہ بنا دیا جائے‘‘۔
ایک ریٹائرڈ اعلیٰ پولیس آفیسر، جو کشمیر میں تعینات رہ چکے تھے، نے ایک ہندی اخبار کو بتایا: ’’ہمیں ضرور اسرائیل کی طرح جواب دینا ہو گا‘‘۔
پیگاسس اور نگرانی کا نظام
اسرائیل کی متنازعہ سکیورٹی برآمدات میں سے ایک جدید سپائی ویئر ’’پیگاسس‘‘ ہے جس کو اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ نے تیار کیا ہے۔
نئی دہلی سے شائع ہونے والی غیر منافع بخش نیوز ویب سائٹ ’’دی وائر‘‘ کے شریک بانی سدھارتھ ورادراجن اُن صحافیوں میں شامل تھے جنہیں مبینہ طور پر اُس سپائی ویئر کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ سافٹ ویئر مودی حکومت کو ایک غیر اعلانیہ دفاعی معاہدے کے تحت فروخت کیا گیا تھا۔
ورادراجن کہتے ہیں: ’’یہ اسرائیلی سپائی ویئر آئی فون کو ذاتی جاسوسی کے آلے میں بدل دیتا ہے۔ یہ خفیہ طور پر ویڈیوز اور تصاویر ریکارڈ اور منتقل کر سکتا ہے‘‘۔
اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے ممکنہ اختلاف یا تنقید کی نگرانی کیلئے اسرائیلی ماڈل کو مکمل طور پر اپنایا ہے۔
بھارت کی سپریم کورٹ نے ایک ماہر کمیٹی تشکیل دی جس نے بعض فونز میں میل ویئر کی موجودگی کی نشاندہی کی تاہم حکومت کے محدود تعاون کے باعث اُسے حتمی طور پر پیگاسس قرار نہ دیا جا سکا۔
ورادراجن کے مطابق اگرچہ بعض جابرانہ اقدامات مکمل طور پر اسرائیلی نہیں لیکن بھارتی حکومت انہیں اپنانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی۔ حالیہ برسوں میں بھارت جمہوری ممالک میں انٹرنیٹ پابندیوں کے نفاذ میں سرفہرست رہا ہے اور مختلف جمہوری اشاریوں میں اِس کی درجہ بندی نیچے آئی ہے۔
انہوں نے کہا: ’’افسوس کی بات ہے کہ وہ طریقے جو اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں استعمال کرتا ہے، وہی طریقے مودی حکومت اپنے ہی شہریوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے‘‘۔
یقیناً بھارت طویل عرصہ سے داخلی سیکیورٹی چیلنجز سے نبرد آزما رہا ہے۔ ایک وسیع اور متنوع ملک کو متحد رکھنے کی کوشش میں اسے شمال مشرقی علاقوں سے لے کر مقبوضہ کشمیر تک مختلف علیحدگی پسند تحریکوں کا سامنا رہا ہے۔ بھارت میں 1966 میں اُس وقت کی وزیرِاعظم اندرا گاندھی نے میزورم میں باغی تحریک کو دبانے کیلئے ہیلی کاپٹر گن شپ سے بمباری کا حکم دیا تھا۔
بھارت کے بعض دیگر علاقے، خاص طور پر جنوبی ریاستیں، طویل عرصہ سے اِس خدشہ کا اظہار کرتی رہی ہیں کہ ہندی بولنے والا شمالی خطہ ثقافتی طور پر اُن پر غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے جس کے نتیجہ میں زبان اور وسائل کے معاملات پر کشیدگی پیدا ہوتی رہی ہے۔
جابرانہ، آمرانہ اور عسکریت پسند ریاست
آزاد عیسیٰ کے مطابق: ’’اسرائیل نے بھارت کو ٹیکنالوجی اور مہارت فراہم کی ہے جس کے ذریعہ وہ بالکل اسرائیل کی طرح زیادہ جابرانہ، آمرانہ اور عسکریت پسند ریاست بننے کے قابل ہوا ہے۔ یہ آبادیوں کو بیرونی خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں‘‘۔
یہ بات بھارتی مقبوضہ کشمیر میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ دنیا کے سب سے زیادہ عسکریت زدہ علاقوں میں شمار ہونے والا کشمیر اگست 2019 کے بعد نہ صرف اپنی نیم خودمختار حیثیت سے محروم ہوا بلکہ بطور خطہ وہ جمہوری اختیارات بھی کھو بیٹھا جو دیگر بھارتی ریاستوں کو حاصل ہیں۔
سمنترا بوس کے مطابق کشمیر کے حوالہ سے سیاسی مکالمے یا سفارتی عمل کو ختم کرنے کا مودی حکومت کا فیصلہ اسرائیل کی پالیسی سے مشابہ ہے۔
اُنہوں نے کہا: ’’یہ نیتن یاہو کے اُس رویے کی بازگشت ہے جس میں فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات سے انکار اور مکمل طور پر فوجی طاقت پر انحصار شامل ہے‘‘۔
یقیناً کشمیر اور فلسطین کی تاریخ اور موجودہ حالات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ تاہم آزاد عیسیٰ کے مطابق کشمیر کے بارے میں بھارت کا طرزِ عمل اب اسرائیل کے مغربی کنارے کے ساتھ برتاؤ سے مماثلت رکھتا ہے۔
اُن کے مطابق ’’عسکریت کاری، آبادی کا انتظام اور ایسے قانونی ڈھانچے جو بھارت اور اسرائیل دونوں کو روزمرہ زندگی پر کنٹرول برقرار رکھنے کی اجازت دیتے ہیں، جیسے چیک پوسٹس اور چھاپے اور اور مواصلاتی پابندیاں، اُن میں واضح مماثلت ہے‘‘۔
آزاد عیسیٰ کہتے ہیں کہ ’’جیسے مقبوضہ مغربی کنارہ تقریباً مستقل ہنگامی کیفیت میں رکھا جاتا ہے، ویسے ہی کشمیر بھی مسلسل فوجی موجودگی، نگرانی اور غیر معمولی قانونی اختیارات کے تحت روزمرہ زندگی گزارتا ہے۔ اور جیسے مغربی کنارے میں روزمرہ انتظامی امور محدود اختیارات رکھنے والی مقامی انتظامیہ کو سونپ دیئے جاتے ہیں، ویسا ہی انتظام کشمیر میں بھی دیکھنے میں آتا ہے‘‘۔







