اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان کے ایک سینئر سکیورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ اسلام آباد افغانستان میں اپنی فوجی کارروائی ختم کرنے کی “کوئی جلدی” میں نہیں، اور یہ آپریشن اُس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ سرحد پار سے پاکستان کو نشانہ بنانے والے شدت پسند گروہ واقعی غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔ بلومبرگ کے مطابق عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان کی حکمتِ عملی “عملی صورتحال” اور “زمینی سطح پر اقدامات” سے مشروط ہے۔
سکیورٹی عہدیدار کے مطابق آپریشن کی مدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ افغانستان کی طالبان حکومت شدت پسند گروہوں کے خلاف میدانِ عمل میں کیا کرتی ہے، اور اسلام آباد کو ایسی “قابلِ تصدیق یقین دہانی” چاہیے کہ متعلقہ عناصر اب افغان سرزمین پر سرگرم نہیں رہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی بنیادی شرط یہی ہے کہ طالبان ایسے اقدامات کریں جن کی تصدیق ممکن ہو۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان نے طالبان حکومت کے ساتھ حالتِ کشیدگی میں “اوپن وار” (کھلی جنگ) کی اصطلاح استعمال کی اور کارروائیاں افغان علاقوں کے اندر مزید گہرائی تک بڑھائیں، جن میں کابل سمیت بعض مقامات پر حملوں کی اطلاعات بھی شامل ہیں۔
سینئر سکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی کارروائیاں “شہری آبادی” کے خلاف نہیں بلکہ عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں اور مبینہ سہولت کاری کے ڈھانچے کے خلاف ہیں۔ عہدیدار کے مطابق اب تک حملوں کے لیے استعمال ہونے والی تقریباً 180 جگہوں کو تباہ کیا گیا اور 30 سے زائد مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔
پاکستانی مؤقف یہ بھی ہے کہ اسلام آباد کا مقصد افغانستان میں حکومت کی تبدیلی نہیں، بلکہ کارروائیوں کا ہدف صرف وہ گروہ ہیں جنہیں پاکستان اپنی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات 2021 میں امریکی انخلا اور طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد مسلسل دباؤ کا شکار رہے ہیں۔ پاکستان نے ابتدا میں طالبان کے بارے میں یہ امید رکھی تھی کہ وہ پاکستان میں سرگرم شدت پسندوں کو قابو میں لائیں گے، مگر اسلام آباد کے مطابق اس کے برعکس پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق پاکستانی حکام طویل عرصے سے یہ مؤقف دہراتے رہے ہیں کہ پاکستان میں حملوں میں ملوث گروہوں کو سرحد پار پناہ گاہیں میسر ہیں، جبکہ افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ حالیہ سکیورٹی صورتحال میں اسلام آباد کا کہنا ہے کہ جب تک سرحد پار خطرات ختم ہونے کے “واضح شواہد” نہ ہوں، کارروائیوں کے خاتمے کا کوئی ٹائم لائن طے نہیں کی جا سکتی۔




