پاک سعودی دفاعی معاہدہ؛ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب کو سعودی عرب پر حملوں سے گریز کی تنبیہ کر دی

پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب کو سعودی عرب پر حملوں سے گریز کرنے کی تنبیہ کر دی جس میں پاک سعودی باہمی دفاعی معاہدے کا حوالہ بھی دیا گیا۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کے ساتھ فون کال پر مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اُنہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب کو خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ نہ کیا جائے جبکہ اِس تناظر میں تہران کو اسلام آباد اور ریاض کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتے کے روز ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے حوالہ سے بتایا کہ میں نے اُنہیں واضح کیا ہے کہ ہمارے پاس دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق اسلام آباد اور ریاض کے درمیان ستمبر میں طے پانے والا یہ معاہدہ اِس حوالہ سے مددگار ثابت ہوا ہے کہ دیگر خلیجی ممالک کی نسبت سعودی عرب کے خلاف میزائل یا ڈرون حملے کم سے کم رہے ہیں۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ دوسری جانب تہران نے یہ یقین دہانی کروانے کا مطالبہ کیا کہ سعودی سرزمین کو ایران پر حملے کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک ملک کے خلاف کوئی بھی جارحیت دونوں کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔ تاہم اسلام آباد اور ریاض میں سے کسی نے بھی اب تک اِس معاہدے کو باضابطہ طور پر کسی جنگ یا کشیدگی کے دوران نافذ نہیں کیا۔

منگل کے روز اسحاق ڈار کا تبصرہ اور اِس سے قبل پارلیمنٹ میں دیا گیا بیان اسلام آباد یا ریاض میں سے کسی بھی جانب سے ایک اعلیٰ عہدیدار کا عوامی سطح پر یہ پہلا بیان ہے جس میں واضح کیا گیا کہ پاک سعودی معاہدہ ایران کی جنگ پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ کے بیانات اُسی روز سامنے آئے جب ایرانی ڈرونز نے ریاض میں امریکی سفارت خانے کو نقصان پہنچایا۔

بعد ازاں سفارت خانے نے مشرقی شہر الظہران پر میزائلز اور ڈرونز حملوں کے قریب الوقوع ہونے کی وارننگ دی جہاں تیل کی کمپنی سعودی آرامکو واقع ہے۔ پیر کے روز سعودی عرب کی وسیع تیل ریفائنری رأس تنورة کو ایک ڈرون کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ہفتہ کے روز فون کال میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔

پاکستان نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت اور تنازع کی علاقائی سطح پر شدت کی مذمت تو کی ہے تاہم پاکستانی اعلیٰ حکام نے امریکا یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر براہِ راست الزام عائد کرنے سے گریز کیا ہے جنہیں پاکستان دو مرتبہ نوبیل امن انعام کیلئے بھی نامزد کر چکا ہے۔

ایران کے خلاف پاکستان کی کسی بھی فوجی شمولیت میں سنگین خطرات ہوں گے کیونکہ پاکستانی آبادی میں تہران کیلئے ہمدردی پائی جاتی ہے اور یہ جذبہ خاص طور پر کم و بیش چار کروڑ کی شیعہ اقلیت میں زیادہ نمایاں ہے۔

ایک دہائی قبل اسلام آباد نے یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فضائی کارروائیوں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا جس پر خلیجی حکام کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا تھا۔

پاکستان اِس وقت افغانستان میں طالبان کے ساتھ لڑائی میں اُلجھا ہوا ہے جو کبھی اُس کا پراکسی گروہ سمجھا جاتا تھا جبکہ ایران کے ساتھ سرحد رکھنے کے باوجود پاکستان اب تک ایران کے میزائلز اور ڈرونز حملوں سے محفوظ رہا ہے۔

تاہم ایرانی جنگ کے اثرات کے حوالہ سے پاکستان کو اب بھی بڑے خطرات لاحق ہیں۔ خلیجی ممالک میں 40 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں جن میں اکثریت محنت کش تارکینِ وطن کی ہے جبکہ ہفتہ کے روز ابو ظہبی پر ایرانی میزائل حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق بھی ہوا ہے۔

سعودی عرب نے جنگ میں خود کو کنارے پر رکھنے کی کوشش کی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری شروع ہونے سے پہلے ریاض نے کہا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو تہران پر حملے کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

لیکن منگل کے روز امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ریاض نے خبردار کیا کہ ایران کا جارحانہ اور سنگین رویہ خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیل دے گا۔

سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق مملکت نے اپنی سلامتی، علاقائی سالمیت، شہریوں و رہائشیوں اور اہم مفادات کے تحفظ کیلئے تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق واضح کیا جس میں کسی بھی طرح کی جارحیت کے بھرپور جواب کا اختیار بھی شامل ہے۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: