ورجینیا (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے اگلے راہنما کے انتخاب میں اُنہیں ’’ذاتی طور پر شامل‘‘ ہونا ہو گا۔ اُنہوں نے عندیہ دیا ہے کہ ہلاک کیے گئے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا بطور جانشین سامنے آنا اُن کیلئے ’’قابلِ قبول نہیں‘‘ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نیوز ویب سائٹ ’’آكسيوس‘‘ کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران ایران میں قیادت کی منتقلی کا موازنہ وینزویلا سے کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح وہ وہاں کے معاملہ میں شامل رہے اُسی طرح ایران کے معاملہ میں بھی کردار ادا کرنا ہو گا۔
آكسيوس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 منٹس تک جاری رہنے والی ٹیلیفونک گفتگو میں کہا ہے کہ ایرانی حکام اعلان میں تاخیر کر رہے ہیں اور وقت ضائع کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ’’کمزور‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اِس تقرری میں شامل ہونا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایسے کسی نئے ایرانی راہنما کو قبول نہیں کریں گے جو خامنہ ای کی پالیسیز جاری رکھے کیونکہ اُن کے مطابق ایسی صورت میں امریکا کو ’’پانچ سال بعد دوبارہ جنگ‘‘ کی طرف جانا پڑے گا۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کیلئے ایسا شخص چاہتا ہے جو ہم آہنگی اور امن لے کر آئے۔
رپورٹ کے مطابق ایران میں نئے سپریم لیڈر کے اعلان کو چند دنوں سے مؤخر کیا جا رہا ہے۔ تاہم جمعرات کو ایرانی سیاست دانوں کے بیانات سے اشارہ ملا کہ نئے راہنما کا اعلان جلد متوقع ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ اور دیگر حکام اِس مؤقف کا اظہار کر چکے ہیں کہ امریکا کی کارروائی کا مقصد رجیم چینج نہیں بلکہ ایران کی میزائل صلاحیت، جوہری پروگرام اور بحری صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔
اِس کے باوجود ٹرمپ کے بیانات کو ایران کے سیاسی مستقبل پر امریکی اثر و رسوخ سے متعلق ایک غیر معمولی دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے جس سے واشنگٹن کی کارروائی کے مقاصد پر مزید سوالات اُٹھ رہے ہیں۔
آكسيوس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے بعد جانشینی کی دوڑ میں نمایاں دکھائی دے رہے ہیں تاہم اب تک کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ رپورٹ کے مطابق وہ سخت گیر مذہبی شخصیت ہیں جن کے ایرانی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) کے ساتھ قریبی روابط بتائے جاتے ہیں جبکہ اُنہوں نے کبھی عوامی سطح پر کوئی سرکاری عہدہ نہیں رکھا۔
اِسی دوران منگل کے روز اسرائیل کی جانب سے قم میں اُس عمارت کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئیں جہاں وہ مذہبی ادارہ موجود ہے جو ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب کا ذمہ دار ہے اور دعویٰ کیا گیا کہ اِس اقدام کا مقصد انتخابی عمل میں خلل ڈالنا تھا۔
آكسيوس کے مطابق ٹرمپ نے ایران میں قیادت کی تبدیلی کا موازنہ وینزویلا سے کیا اور کہا کہ وہاں نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے اقتدار سنبھالا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں وینزویلا کو ‘‘نیا دوست اور شراکت دار‘‘ قرار دیا اور تیل کی فراہمی سے متعلق بھی دعوے کیے جبکہ بدھ کو اُنہوں نے روڈریگز کے حوالہ سے کہا کہ ’’تیل بہنا شروع ‘‘ ہو گیا ہے۔







