اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی کانگریس مین ’’رایان زِنکے‘‘ نے میدانِ جنگ کے شور شرابے کو چیرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اِس وقت پاکستان میں طالبان کے افراد امریکی ہمویز اور امریکی ایم16 چلا رہے ہیں اور امریکی ٹیکٹیکل گیئر استعمال کر رہے ہیں‘‘۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد پیچھے رہ جانے والا تقریباً 7 ارب ڈالرز کا امریکی ساز و سامان اب ’’دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہا ہے‘‘۔
If anyone still needs convincing as to why decisive action against the terrorist threat in Iran is necessary, look at the alternative. Right now, in Pakistan, members of the Taliban are driving American Humvees, shooting American M16s, and utilizing American tactical gear to…
— Rep Ryan Zinke (@RepRyanZinke) March 4, 2026
پاکستان میں، جہاں حملے و چھاپے اور سرحدی جھڑپیں سیکیورٹی نقشہ کی روزمرہ حقیقت ہیں، اِس پوسٹ کو محض سیاسی بیان سمجھ کر نہیں پڑھا جا رہا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر (ایکس) پر جاری کی گئی یہ پوسٹ پاکستان کے اُس دیرینہ مؤقف کی حمایت کرتی ہے کہ 2021 میں افغان ذخائر کے بکھرنے کا عمل افغانستان کی سرحدوں پر ختم نہیں ہوا اور جو ساز و سامان کبھی افغان فورسز کی مدد کیلئے دیا گیا تھا وہ خطہ کے شدت پسند نیٹ ورکس میں پھیلتا چلا گیا ہے۔
اِس کہانی کا بےچینی پیدا کر دینے والا مرکزی نکتہ وہی ہے جس کو پاکستانی حکام نجی و عوامی سطح پر اٹھاتے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ ٹیکنالوجی اور ساز و سامان جو برسوں تک استحکام اور تحفظ کا آلہ سمجھا جاتا رہا، اب دوبارہ اُن عناصر کے ہاتھوں میں دکھائی دے رہا ہے جن پر پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے الزامات ہیں۔ بحث کسی ناکام مشن کی یاد دلانے کیلئے نہیں بلکہ اِس بات پر ہے کہ جب جدید سامان ایک ’’آفٹر مارکیٹ‘‘ چیز بن جائے تو وہ سمگلرز، سہولت کاروں اور اُن جنگی معیشتوں کے ذریعہ کس طرح گردش کرتا ہے جو ریاستوں کے درمیان موجود خلا میں پھلتی پھولتی ہیں۔
اِس دعویٰ کو مزید وزن پاکستان میں حالیہ رپورٹنگ سے ملتا ہے جس میں ’’سی این این‘‘ کی فوٹیج اور امریکی ساختہ ہتھیاروں سے جڑی تصدیقی معاملات کا حوالہ دیا گیا۔ اِس کوریج کے مطابق M16 پلیٹ فارم کی رائفلز سیریل نمبر چیکنک کے ذریعہ کنفرم کی گئیں جبکہ بعض ہتھیاروں پر مبینہ طور پر ’’یو ایس گورنمنٹ پراپرٹی‘‘ کی مارکنگ بھی موجود تھی۔ اِسی رپورٹنگ میں، جیسا کہ ’’تھرسڈے ٹائمز‘‘ نے بیان کیا، امریکی فوج کے حوالہ سے کہا گیا کہ کابل سے انخلاء سے قبل افغان فورسز کے ہتھیاروں کا ایک بڑا حصہ طالبان کے ہاتھ لگا اور پھر مختلف راستوں سے خطہ میں پھیلتا چلا گیا۔
سی این این رپورٹ کے مطابق طالبان پاکستان کے خلاف امریکی ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ طالبان کی زیر استعمال M16 رائفلیں سیرل نمبرز سے امریکی ساخت ثابت ہوئی۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کابل انخلا سے قبل افغان فورسز کے 75 فیصد ہتھیار طالبان کے ہاتھ لگے، جن پر "U.S. Government Property"… pic.twitter.com/tYTpgODDbv
— The Thursday Times (@thursday_times) February 3, 2026
تھرسڈے ٹائمز نے پاکستان کے سیکیورٹی اور انٹیلیجنس ذرائع کے حوالہ سے علیحدہ رپورٹ بھی شائع کی جس کے مطابق افغانستان سے انخلاء کے بعد پیچھے رہ جانے والا جدید امریکی ساختہ ساز و سامان پاکستان کے اندر، خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں، شدت پسند سرگرمیوں میں سامنے آیا ہے جہاں حکام نے آپریشنز کے دوران حملوں اور چھاپوں میں جدید ساز و سامان استعمال ہونے سے متعلق ریکوریز اور شواہد کا دعویٰ کیا ہے۔
رایان زِنکے نے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ہمویز کے بارے میں بھی کہا کہ وہ پاکستان میں موجود ہیں۔ یہ الزام اُن چھوٹے ہتھیاروں، آپٹکس اور ایسے لوازمات کے مقابلہ میں عوامی سطح پر ثابت کرنا زیادہ مشکل ہے جو آسانی سے منتقل ہو جاتے ہیں اور کم لاجسٹک نشان چھوڑتے ہیں۔ اگر واقعی ایسی گاڑیاں استعمال ہو رہی ہوں تو زیادہ قَرِینِ قَیاس میدان بڑے شہری مراکز کے بجائے سرحدی تنازع کا بیلٹ ہو سکتا ہے جہاں دشوار گزار جغرافیہ، سرحد پار نقل و حرکت اور باہم جڑی وئی سپورٹ نیٹ ورکس اِس کی خفیہ نقل و حرکت کو نسبتاً آسان بنا دیتے ہیں۔
پاکستان کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اِس بات پر زور دیتی ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ کوئی سیاستدان وائرل پیراگراف لکھ سکتا ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ دعوے ریکوریز، سیریل ٹریسز اور قابلِ اعتماد نسبت کے ساتھ جوڑے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ سی این این سے منسلک سیرل چیکس، جن کا حوالہ پاکستانی رپورٹنگ میں آیا، اُسی طرح کی تفصیل ہے جو کسی الزام کو ثبوت کی سمت میں لے جاتی ہے اور یہ فرق ایک ایسے خطہ میں خاص طور پر اہم ہے جہاں بیانیے بعض اوقات حقائق سے آگے نکل جاتے ہیں اور حقائق جب دستاویزی شکل اختیار کر لیں تو پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
پاکستان کیلئے 2021 میں افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ سپلائی کا ہے جو بار بار اُن ہاتھوں کے ذریعہ نمودار ہوتا ہے جن پر پاکستان میں قتل و غارت کا الزام ہے اور اب اِس موضوع پر واشنگٹن میں بھی اُسی طرح کی زبان میں بحث ہو رہی ہے جو پاکستان اپنی سرحدی پٹی میں ایک مدت سے کر رہا ہے۔







