نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی جریدہ ’’بلومبرگ‘‘ کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ جھڑپیں ختم کرنے کیلئے اُس وقت تک مذاکرات شروع نہیں کرے گا جب تک کابل اُن شدت پسند گروہوں کی حمایت اور اُنہیں پناہ دینا بند نہیں کرتا جو افغان سرزمین سے سرحد پار حملے کرتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی نے جمعرات کی شب سرکاری ٹیلی وژن (پی ٹی وی) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ ہونا چاہیے‘‘۔
افغانستان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ لازمی ہے۔ پاکستان کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کا تحفظ ہے، اور اگر کسی خطرے کی نشاندہی ہوتی ہے تو اسے ختم کیا جائے گا۔ جو لوگ بات چیت کرنا چاہتے ہیں وہ ضرور کریں، مگر آپس میں کریں۔
مشرف… pic.twitter.com/eHSI2sXEgv— The Thursday Times (@thursday_times) March 5, 2026
مشرف زیدی نے پاکستان کے طاقتور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے گزشتہ ہفتے میں اختیار کیے گئے مؤقف کو دوہرایا۔ افغان حکومت شدت پسندوں کو پناہ دینے یا اُن کی حمایت کرنے کی تردید کرتی ہے جبکہ کابل نے گزشتہ ہفتے جھڑپیں ختم کرنے کیلئے مذاکرات کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
بلومبرگ کے مطابق یہ جنگ ایسے خطہ کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے جہاں امریکا، چین اور بھارت سب کے اہم مفادات وابستہ ہیں اور اب ایسی صورتحال میں ایران پر امریکی حملوں کے اثرات نے مزید پیچیدگی پیدا کر دی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطہ پر دباؤ کی ایک اور تہہ کا اضافہ کر رہی ہے اگرچہ دونوں جانب سے یہ اشارے بھی ملے ہیں کہ وہ طویل تصادم سے بچنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ دونوں ممالک ایک ہفتہ سے زائد عرصہ سے برسرِ پیکار ہیں جب افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستانی فضائی حملوں کے ردعمل میں جوابی کارروائیاں شروع کیں۔ یہ فضائی حملے شدت پسند اہداف پر کیے گئے تھے، اسلام آباد نے افغانستان کے ساتھ ’’کھلی جنگ‘‘ کا اعلان کیا اور افغانستان کے مزید اندر فوجی اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا جن میں دارالحکومت کابل کے مقامات بھی شامل تھے۔
بلومبرگ کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے تعلقات 2021 میں امریکی قیادت میں اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے مسلسل خراب ہوتے گئے ہیں جبکہ گزشتہ برس قطر اور ترکیہ کی جانب سے ثالثی کے تحت اکتوبر میں ہونے والی ایک کمزور جنگ بندی میں توسیع نہ ہو سکی۔







