ریاض (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات نے خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاک سعودی سیکیورٹی رابطوں کو نمایاں کر دیا ہے جبکہ دونوں جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو مشترکہ سٹریٹیجک دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت دیکھنے کا اشارہ دیا گیا ہے۔
شہزادہ خالد بن سلمان نے ملاقات کے بعد جاری بیان میں بتایا کہ گفتگو میں مملکت سعودی عرب پر ایرانی حملوں اور اُنہیں روکنے کیلئے ضروری اقدامات کے حوالہ سے بات ہوئی جبکہ یہ معاملات دو طرفہ دفاعی انتظام کے فریم ورک کے اندر زیرِ بحث آئے۔ بیان میں اِس بات پر زور دیا گیا کہ ایسی کارروائیاں علاقائی سلامتی اور استحکام کو کمزور کرتی ہیں جبکہ یہ اُمید بھی ظاہر کی گئی کہ ایران دانائی سے کام لے گا اور غلط اندازوں سے گریز کرے گا۔
التقيت معالي قائد قوات الدفاع قائد الجيش الباكستاني المشير عاصم منير.
بحثنا الاعتداءات الإيرانية على المملكة في إطار اتفاقية الدفاع الإستراتيجي المشترك بين بلدينا الشقيقين، وسبل وقف هذه الاعتداءات التي لا تصب في مصلحة أمن واستقرار المنطقة، متمنيّن أن يُغلب الجانب الإيراني الحكمة… pic.twitter.com/ex5Qf32lMj— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) March 7, 2026
پاکستان کیلئے یہ پیغام ڈیٹرینس اور کرائسز مینیجمنٹ کے ذریعہ خلیج میں کشیدگی کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ایک مانوس حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ خطہ میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں اور اسلام آباد طویل عرصہ سے عدم استحکام کو معاشی و سیکیورٹی دونوں حوالوں سے خطرہ سمجھتا رہا ہے۔ یہ ملاقات اِس امر کی بھی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کے خلیجی روابط محض معاشی تعاون اور افرادی قوت تک محدود نہیں بلکہ باقاعدہ سیکیورٹی کوآرڈینیشن تک پھیلے ہوئے ہیں جن کی سمت اور دائرہ کار کو سیاسی سطح پر آپریشنل تفصیلات منظرِ عام پر لائے بغیر بھی واضح کیا جا سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطہ بیک وقت کئی محاذوں پر کشیدگی کے باعث دباؤ کا شکار ہے اور خلیجی دارالحکومت فضائی دفاعی تیاریوں کے ساتھ اِس خدشہ کو بھی مدِنظر رکھے ہوئے ہیں کہ کسی بھی غلط اندازے سے تنازع کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے ماحول میں ضبط اور استحکام پر زور دینے والی زبان محض نرم سفارتکاری نہیں بلکہ ایک طرح سے ڈیٹرینس کا اشارہ بھی ہوتی ہے جس کا مقصد مزید حملوں سے خبردار کرنا اور سفارتی راستے کھلے رکھنا ہوتا ہے۔
شہزادہ خالد بن سلمان کے بیان میں معاہدے کے فریم ورک کا نمایاں ہونا اسلام آباد میں ایک نپا تلا پیغام سمجھا جائے گا جس میں سعودی سیکیورٹی خدشات کے ساتھ ہم آہنگی ظاہر ہوتی ہے اور ساتھ یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ ترجیح تنازع کو وسعت دینا نہیں بلکہ کشیدگی میں کمی اور غلط اندازوں سے بچاؤ ہے۔




