بیجنگ (تھرسڈے ٹائمز) — چین نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کیلئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا زور دیا ہے کہ ایران اسرائیل کی جنگ کبھی شروع نہیں ہونی چاہیے تھی کیونکہ یہ کسی کے فائدہ میں نہیں ہے۔
چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ اور دنیا بھر میں قیامِ امن کیلئے فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی موجودہ صورتحال عالمی توجہ کا مرکز ہے اور اِس حوالہ سے چین کا رویہ غیر جانبدارانہ ہے، چین کا اصولی مؤقف جنگ بندی اور دشمنی کے خاتمہ پر مبنی ہے۔
اُنہوں نے زور دیا کہ قدیم چینی دانائی یہ سبق دیتی ہے کہ ہتھیار تباہی کے اوزار ہیں جن کا غیر ضروری استعمال نہیں کرنا چاہیے، مشرقِ وسطیٰ آگ کی لپیٹ میں ہے، یہ ایک ایسی جنگ ہے جس کو کبھی شروع نہیں ہونا چاہیے تھا اِس سے کسی کا فائدہ نہیں ہو گا۔
قدیم چینی دانائی یہ سبق دیتی ہے کہ ہتھیار تباہی کے اوزار ہیں، اس لیے انہیں بغیر سوچے سمجھے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ چین نے مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور دشمنی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فوجی کارروائی صرف نفرت کو مزید گہرا کرے گی اور نئے بحرانوں کو جنم دے… pic.twitter.com/ZVHyN0JqeF
— The Thursday Times (@thursday_times) March 8, 2026
وانگ ای کا کہنا تھا کہ ایران اور خلیجی ممالک کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام لازمی ہے جس کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے، طاقت کا وحشیانہ استعمال کسی کی برتری ثابت نہیں کرتا، معصوم شہریوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔
چینی وزیرِ خارجہ نے ایران میں رجیم چینج کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے فیصلے یہاں کے ممالک کو خود کرنے چاہئیں، حکومتیں تبدیل کرنے کی بیرونی سازشوں کی کوئی حمایت نہیں کرے گا، تمام فریق فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور برابری کی بنیاد پر اختلافات حل کرنے کی کوشش کریں۔
چین نے طاقت کے ناجائز استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض قوت کو حق کا معیار نہیں بنایا جا سکتا اور جنگل کا قانون دنیا پر مسلط نہیں ہونا چاہیے۔ نام نہاد انقلاب برآمد کرنے یا زبردستی نظام کی تبدیلی مسلط کرنے کی کوششوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکتی۔ بے گناہ شہریوں کو نشانہ… pic.twitter.com/BwTZO3eM1V
— The Thursday Times (@thursday_times) March 8, 2026
اُنہوں نے کہا کہ بڑی طاقتوں کو چاہیے کہ انصاف کے اصول مدنظر رکھیں اور اپنی توانائیاں خطہ میں امن و ترقی کیلئے استعمال کریں، چین ایک مخلص دوست اور سٹریٹیجک شراکت دار کی حیثیت سے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کیلئے تیار ہے، تاکہ گلوبل سکیورٹی انیشیئیٹو کو فروغ دیا جا سکے۔
چینی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ چین خطہ میں استحکام کی بحالی چاہتا ہے تاکہ عوام کو سکون میسر آئے اور دنیا بھر میں امن کے قیام میں مدد ملے۔




