تہران (تھرسڈے ٹائمز) — مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا، ملک کے موجودہ نظام میں اعلیٰ ترین منصب کیلئے نہایت اہم تقرری کو باضابطہ شکل دے دی گئی، امریکا و اسرائیل کے خلاف جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بعد اقتدار اُن کے بیٹے کو سونپ دیا گیا۔
ایران کی مجلسِ خبرگان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کا اعلان کر دیا جبکہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران امریکا و اسرائیل کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے۔
سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جانشینی کیلئے تہران کے سیاسی و مذہبی حلقوں میں طویل عرصہ سے سرگوشیاں ہوتی رہی ہیں تاہم جنگی حالات میں اِس کی باضابطہ توثیق نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای مذہبی درجہ بندی میں ایک متوسط درجہ کے سکالرز میں شمار کیے جاتے ہیں تاہم اُن کے ایرانی سیکیورٹی اداروں اور قدامت پسند طاقت کے حلقوں سے دیرینہ روابط رہے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای ایک ایسے ریاستی نظام کے وارث بنے ہیں جو فوجی دباؤ، معاشی مشکلات اور غیر معمولی داخلی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ اُن کا اقتدار میں آنا علامتی طور بھی ایک غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
انقلاب 1979 کے بعد سے ایران خود کو ایک ایسے نظریاتی نظام کے طور پر پیش کرتا رہا ہے جو بادشاہت اور موروثی حکمرانی کے خلاف قائم ہوا تھا تاہم سابق راہنما کے بیٹے کا انتخاب اِس دیرینہ بیانیہ سے یکسر مختلف نظر آ رہا ہے جس سے ایران کے انقلابی نظام سے متعلق عملاً موروثی جانشینی کی جانب بڑھنے کی بحث مزید گہری ہو سکتی ہے۔
اقتدار کی یہ منتقلی سابق ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی ہے جس نے ایران کے اُس سیاسی نظام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا جو دہائیوں سے ملک پر حکمرانی کرتا رہا تھا اور اسی کے ساتھ جانشینی کے اِس عمل کو بھی تیز کر دیا گیا جس کے بارے میں پہلے ہی شدید قیاس آرائیاں جاری تھیں۔
مجلسِ خبرگان کی جانب سے کیے گئے اعلان سے قبل خبر رساں ادارے ’’رائٹرز‘‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ سخت گیر مذہبی شخصیات تیزی سے نئے راہنما کے تقرر کی جانب بڑھ رہی ہیں جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے، خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب اور طاقت کے دیگر بنیادی اداروں میں، نمایاں امیدوار کے طور پر سامنے آ رہے تھے۔
ایرانی قیادت کیلئے یہ فیصلہ بظاہر تسلسل کو برقرار رکھنے والا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کو عمومی طور پر ایک ایسے کردار کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو موجودہ ریاستی ڈھانچہ کی سیکیورٹی ترجیحات اور سخت گیر پالیسیز کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تقرری اِس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کم از کم فی الحال نظام نے نئی راہوں کی تلاش کے بجائے موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھنے، تجربات کی بجائے نظم و ضبط کو ترجیح دینے اور اصلاحات کی کسی نمایاں گنجائش کی بجائے کنٹرول کو برقرار رکھنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔
تاہم تسلسل لازماً استحکام کی ضمانت نہیں دیتا۔ ایران امریکی و اسرائیلی حملوں کی زد میں ہے، خطہ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے جبکہ قیادت کو بیرونی دباؤ کے ساتھ ساتھ داخلی بےچینی کا بھی سامنا ہے۔ نیا سپریم لیڈر کسی رسمی اور پُرسکون ماحول میں منصب سنبھالنے کے بجائے براہِ راست جنگ کے دوران اقتدار میں آیا ہے جبکہ ریاستی کمان، سیاسی ساکھ اور مستقبل کی سمت گہری جانچ کے مرحلہ سے گزر رہے ہیں۔
یہ ابھی واضح نہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای جلدی اپنی اتھارٹی مستحکم کر سکیں گے یا پھر انہیں مذہبی و سیاسی نظام کے اندر سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ ایران ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ وہ ریاست جو انقلاب کے نام پر قائم ہوئی تھی اُس نے اب اپنے سب سے طاقتور حکمران کے بیٹے کو اعلیٰ ترین اختیار سونپ دیا ہے اور یہ سب ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک برسوں کے مقابلہ میں اپنے سب سے بڑے بیرونی خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔




