دوحہ (تھرسڈے ٹائمز) — قطر کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ قطر سمیت خطہ کے ممالک پر ایرانی حملوں کے جواز میں پیش کیا گیا کوئی بھی بہانہ قابلِ قبول نہیں، ایران نے قطر میں سویلین و انرجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے، ایرانی حملوں کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی۔
قطر کے وزیراعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے برطانوی نیوز چینل ’’سکائی نیوز‘‘ کو انٹرویو دیا ہے جس کے دوران اُنہوں نے قطر سمیت خطہ کے ممالک پر ایرانی حملوں کو کھلا دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا ہقطر سمیت خلیجی و عرب ممالک پر ایرانی حملے بلاجواز ہیں، ایرانی حملوں کی منصوبہ بندی پہلے سے کی جا چکی تھی۔ قطری وزیراعظمے کہ ایرانی حملوں کا کوئی بھی جواز تلاش نہیں کیا جا سکتا، ایران نے یہ حملے کر کے اعتماد کو تباہ کر دیا ہے۔
ایران کا قطر اور دیگر خلیجی ممالک پر حملہ ہمارے لیے کھلے دھوکے کے مترادف ہے، اور یہ دوسری بار ہوا ہے۔ جنگ شروع ہوتے ہی خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا جانا ظاہر کرتا ہے کہ یہ کارروائی پہلے سے منصوبہ بند تھی۔ ہم ہمیشہ ایک پُرامن ہمسائیگی، عدم شمولیت، اور ایران۔امریکا تنازع کے سفارتی حل… pic.twitter.com/VxeDH8luj3
— The Thursday Times (@thursday_times) March 9, 2026
خلیجی و عرب ممالک پر ایرانی حملوں کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے قطری وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران کی جانب سے قطر اور خطہ کے دیگر ممالک پر حملے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں، ہم نے ہمیشہ ہمسایہ کے طور پر ایران کے ساتھ حسنِ سلوک اور نیک نیتی پر مبنی تعلقات کے فروغ کی کوشش کی، ایران کی جانب سے حالیہ حملوں کے جواز میں پیش کیے گئے بہانے ناقابلِ قبول ہیں، ہم اپنے ممالک کے دفاع اور خطہ کے استحکام کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
اُنہوں نے ایرانی پالیسیز کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملے ہمارے لیے کھلے دھوکہ کے مترادف ہیں، ایسا دوسری بار ہوا ہے، جنگ شروع ہوتے ہی خلیجی ممالک کو نشانہ بنانا ظاہر کرتا ہے کہ اِس کارروائی کیلئے پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی، ایک گھنٹے کے اندر خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا گیا، ہم ہمیشہ ایک پُرامن ہمسایہ کے طور پر ایران امریکا تنازع کے سفارتی حل کی حمایت کرتے رہے مگر ایران کے اِن غلط اندازوں نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔
ایرانی حملوں میں سویلین اور انرجی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے سے متعلق بات کرتے ہوئے قطر کے وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ہمیں یہ توقع نہیں تھی کہ ایران کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائلز اور ڈرونز قطر اور خطہ کے دیگر ممالک کی جانب داغے جائیں گے، ایران نے دعویٰ کیا کہ اُس کا ہدف فوجی تنصیبات تھیں مگر ایران نے شہری مقامات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جو ایک خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔
قطر کے وزیراعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ایرانی حملوں کا کوئی بھی جواز تلاش نہیں کیا جا سکتا، ایرانی حملوں میں ائیر پورٹس اور پانی کی فراہمی کے نظام اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا، تقریباً 25 فیصد حملوں میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کا براہِ راست جنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
اُنہوں نے واضح کیا کہ قطر دنیا کو تقریباً 20 فیصد گیس فراہم کرتا ہے اور کھاد پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، اگر قطر کی توانائی اور بنیادی تنصیبات متاثر ہوئیں تو اِس کے اثرات عالمی معیشت اور خوراک کی فراہمی اور توانائی کی منڈیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے واضح طور پر کہا کہ ہمارے پاس اپنے مُلک اور عوام کے دفاع کی بھرپور صلاحیت موجود ہے مگر ہم کسی ملک میں حتیٰ کہ ایران میں بھی شہری مقامات یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو قبول نہیں کرتے، امریکا و دیگر عالمی طاقتیں تناؤ کم کرنے میں کردار ادا کریں، صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔




