تجزیہ: پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی حملوں کی صورت میں سعودی عرب کی مدد ضرور کرے گا، جریدہ بلومبرگ

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی حملوں کی صورت میں سعودی عرب کی مدد ضرور کرے گا، پھر چاہے جو بھی حالات ہوں اور وقت کوئی بھی ہو۔ پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ اِس اصول پر عمل کرتے رہے ہیں کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

spot_imgspot_img

نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی جریدہ ’’بلومبرگ‘‘ کے مطابق پاکستان نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے حملوں کے بعد وہ سعودی عرب کی مدد کیلئے تیار ہے، اگر ضرورت پڑی تو پاکستان سعودی عرب کی مدد کیلئے آئے گا۔

بلومبرگ نے لکھا ہے کہ ایسے وقت میں جب ایران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں خلیجی و عرب ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے، پاکستانی وزیراعظم کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو پاکستان سعودی عرب کی مدد کیلئے آئے گا۔

سعودی عرب اور ایٹمی طاقت کے حامل پاکستان، جس کی سرحد ایران سے ملتی ہے، نے گزشتہ برس ستمبر میں ایک دفاعی معاہدہ (جوائنٹ سٹریٹیجک ڈیفینس ایگریمنٹ) کیا تھا جس کے ذریعہ دونوں ممالک کی دیرینہ سیکیورٹی شراکت داری کو مزید مضبوط کیا گیا۔ اب مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران اِس تعلق کو ایک امتحان سے گزار رہا ہے۔

مشرّف زیدی نے بدھ کے روز ’’بلومبرگ ٹی وی‘‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اِس بات میں ’’کوئی شک نہیں کہ ہم مدد کریں گے، ہم ضرور سعودی عرب کی مدد کیلئے آئیں گے، چاہے حالات کچھ بھی ہوں اور وقت کوئی بھی ہو‘‘۔

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان نے کہا کہ ’’دونوں ممالک دفاعی معاہدے سے پہلے بھی ہمیشہ اِس اصول پر عمل کرتے رہے ہیں کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے‘‘۔

بلومبرگ کے مطابق اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’’اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان صورتحال کو اُس مقام تک پہنچنے سے روکنے کیلئے کیا اقدامات کر رہا ہے جہاں اُس کے قریبی شراکت دار کسی ایسے تنازع میں مزید الجھ جائیں جو خطہ کے استحکام اور خوشحالی کو نقصان پہنچا سکتا ہے‘‘۔

ترجمان پاکستانی وزیراعظم کے مطابق سعودی عرب نے تنازع شروع ہونے کے بعد پاکستان کو تیل اور ڈیزل کی فراہمی میں مدد دینے کے انتظامات کیے ہیں کیونکہ عالمی ایندھن بحران کا اثر درآمدات پر انحصار کرنے والا پاکستان خاص طور پر محسوس کر رہا ہے۔

بلومبرگ نے لکھا ہے کہ ایک ہفتے سے جاری اِس جنگ میں، جس میں امریکا اور اسرائیل بھی شامل ہیں، تہران خلیجی ریاستوں پر میزائل حملے جاری رکھے ہوئے ہے جس سے یہ ایک بڑا اور ہلچل مچا دینے والا تنازع بن چکا ہے جبکہ اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

سعودی عرب نے ہفتہ کے روز بتایا کہ اُس نے ایک بڑے تیل کے ذخیرے کی طرف بڑھنے والے ڈرونز کو تباہ کر دیا جو اِس جنگ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے (آئل انفراسٹرکچر) کو نشانہ بنانے کی تازہ مثال ہے۔ اِس تنازع کے باعث خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سعودی عرب پہنچے جہاں اُنہوں نے سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان آل سعود سے ملاقات کی۔ دونوں راہنماؤں نے ایران کی جانب سے ہونے والے ڈرون اور میزائل حملوں کو روکنے کیلئے مشترکہ اقدامات پر بات چیت کی۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے باہمی دفاعی معاہدے کا پہلا بڑا امتحان بھی سمجھا جا رہا ہے۔

مشرّف زیدی کے مطابق پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار جنگ شروع ہونے کے بعد سے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

بلومبرگ کے مطابق پاکستانی وزیراعظم کے ترجمان نے کہا کہ یہی گفتگو اور دیگر سفارتی رابطے اِس بات کی وجہ ہیں کہ ایران نے خلیجی ممالک کی جانب کچھ حد تک مفاہمتی رویہ بھی اختیار کیا ہے۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

spot_img

خبریں

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

More from The Thursday Times

error: