اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان نے ایک ایسے ہفتے میں جس کو علاقائی کشیدگی، عالمی منڈی کے دباؤ، تیل کی قیمتوں کے شدید اُتار چڑھاؤ اور سفارتی بےیقینی نے گھیر رکھا تھا، کئی محاذوں پر غیر معمولی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے مضبوط فیصلہ سازی کا مظاہرہ کیا۔ حکومت، عسکری قیادت اور سفارتی حلقوں کی حالیہ کارکردگی نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ اسلام آباد صرف ردِعمل نہیں دے رہا بلکہ ایک وسیع تر حکمتِ عملی کے تحت اپنے داخلی، علاقائی اور تزویراتی مفادات کو متوازن انداز میں آگے بڑھا رہا ہے۔
ڈیجیٹل پاکستان کیلئے نئی رفتار
پاکستان میں 5G نیلامی ایک ایسے وقت میں مکمل ہوئی ہے جب خطہ غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ سے گزر رہا تھا۔ اِس کے باوجود نیلامی کے ذریعہ نصف ارب ڈالرز سے زیادہ آمدنی حاصل ہونا محض ایک مالی کامیابی نہیں بلکہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ریاست نے بحران کے ماحول میں بھی طویل المدتی معاشی اور تکنیکی سمت پر توجہ برقرار رکھی ہے۔ یہ پیش رفت ڈیجیٹل پاکستان کے تصور کو محض ایک نعرہ نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے ایک ایسے منصوبے میں تبدیل کرتی ہے جس کی معاشی، انتظامی اور تکنیکی بنیادیں بتدریج مضبوط کی جا رہی ہیں۔
ایران اور خلیج کے درمیان تناؤ کم کرنے کی کوشش
حالیہ دِنوں میں پاکستان کی سفارتی کوششوں نے ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں ایک قابلِ ذکر کردار ادا کیا۔ تہران کی جانب سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کیلئے نسبتاً نرم اشاروں کو اسلام آباد کی مسلسل متحرک سفارت کاری کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب بہت سی ریاستیں محض بیانات تک محدود رہیں، پاکستان نے خود کو ایک ایسے فریق کے طور پر پیش کیا جو خطہ کی پیچیدگی کو سمجھتا ہے اور تصادم کی بجائے استحکام کو ترجیح بھی دیتا ہے۔
تیل کا بحران، مگر فیصلہ بروقت
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی، سپلائی خدشات اور بعد ازاں شدید اُتار چڑھاؤ نے درآمدی معیشتوں کیلئے سنگین چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے قیمتوں اور سپلائی کے حوالہ سے بروقت فیصلے کرنا ایک مشکل مگر ضروری قدم تھا۔ اِس سے عوامی دباؤ ضرور بڑھا لیکن حکومتی مؤقف مضبوط رہا کہ اگر یہ فیصلہ نہ کیا جاتا تو منڈی میں قلت، افراتفری اور رسد کے بگاڑ کے خطرات کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے تھے۔ اِسی تناظر میں قیمتوں میں اضافہ محض ایک مالی اقدام نہیں بلکہ بحران کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کفایت شعاری کا نیا مرحلہ
وزیراعظم شہباز شریف نے سرکاری اخراجات میں کمی، غیر حساب شدہ مراعات کے خاتمہ اور توانائی کے استعمال میں نظم پیدا کرنے کیلئے ایک وسیع کفایت شعاری اور بچت مہم شروع کی ہے۔ اِس پر شکوک و شبہات موجود ہیں اور ماضی کے تجربات بھی احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں تاہم حکومت کے حامی حلقوں کا استدلال ہے کہ اگر ایسے اقدامات پر سنجیدگی سے عمل ہوا تو یہ ریاستی ڈھانچے میں ایک زیادہ دیرپا تبدیلی کا نقطہ آغاز بن سکتے ہیں۔ پاکستان میں اکثر اصلاحاتی اقدامات کا مسئلہ اعلان نہیں بلکہ نفاذ رہا ہے لہذا اصل امتحان عملدرآمد کا ہو گا۔
تہران کے ساتھ رابطہ، اسلام آباد کی اہمیت
پاکستان نے ایران کے ساتھ اپنے رابطوں کو محض رسمی سفارت کاری تک محدود نہیں رکھا بلکہ حملوں کی مذمت، نئی ایرانی قیادت کے ساتھ تعزیتی و مبارکبادی پیغامات، اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان رابطے، اور پھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایک طویل فون کال نے ظاہر کیا ہے کہ اسلام آباد اِس بحران میں تہران کیلئے ایک اہم اور قابلِ اعتماد چینل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اِس پہلو نے پاکستان کے سفارتی وزن میں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر اِس لیے کہ ایران نے اپنی بات چیت کیلئے محدود مگر اہم رابطوں کو ترجیح دی۔
سعودی عرب کے ساتھ سلامتی کا تسلسل
اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دفاعی اور تزویراتی ہم آہنگی بھی اِن دنوں نمایاں رہی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی ملاقات، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللّٰہ کے مابین مسلسل رابطے، اور وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات کو ایک بڑے پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پیغام واضح ہے کہ پاکستان خلیجی سلامتی، علاقائی استحکام اور سعودی عرب کی خودمختاری و تحفظ کے معاملہ میں اپنے عزم سے متعلق کوئی ابہام نہیں چھوڑنا چاہتا۔ یہ تعلق محض سفارتی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ایک ایسے اعتماد کا حصہ ہے جو بحران کے وقت زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔
افغانستان، پراکسی جنگ اور پاکستان کا مؤقف
اِسی دوران پاکستان نے افغانستان سے جڑے سلامتی کے خطرات پر بھی اپنی توجہ برقرار رکھی ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف واضح ہے کہ بھارت کے حمایت یافتہ عناصر اور افغانستان میں موجود بعض گروہوں نے خطہ کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے اور اُن کے خلاف کارروائی کوئی وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک تزویراتی ضرورت ہے۔ پاکستان کے سرکاری اور حمایتی بیانیہ میں یہ مؤقف مضبوطی سے اُبھر رہا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر ایسے عناصر کیلئے جگہ بنتا جا رہا ہے جو خطہ کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں اور ایسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی پالیسی زیادہ واضح اور زیادہ سخت ہو رہی ہے۔
قیادت، استحکام اور قومی تاثر
پاکستانی سیاست میں عوامی شور، مقبولیت کے اُتار چڑھاؤ اور شدید تنقیدی ماحول کوئی نئی بات نہیں، لیکن حالیہ ہفتوں نے یہ تاثر ضرور پیدا کیا ہے کہ ریاستی قیادت ایک غیر معمولی دباؤ کے ماحول میں نسبتاً منظم انداز میں کام کر رہی ہے۔ بعض حلقے اسے وزیراعظم شہباز شریف کی مسلسل محنت اور فیلڈ مارشل کے عزم کے ساتھ ایک ایسی قیادت کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو جذباتی نعروں کی بجائے عملی نظم، استحکام اور نتائج پر توجہ دے رہی ہے۔ اُن کے نزدیک یہ محض خوش قسمتی نہیں بلکہ دعا، تدبیر اور مسلسل محنت کا امتزاج ہے۔
پاکستان کیلئے یہ چند دن معمول کے دن نہیں تھے۔ ایک طرف ٹیکنالوجی، معیشت اور نظمِ حکومت کے فیصلے تھے جبکہ دوسری طرف ایران، خلیج، سعودی عرب اور افغانستان سے جڑی نہایت حساس سفارتی و سلامتی صورتحال درپیش تھی۔ اِن تمام محاذوں پر بیک وقت موجود رہنا کسی بھی ریاست کیلئے آسان نہیں ہوتا۔ اسی لیے پاکستان میں بہت سے حلقے اِس پورے مرحلہ کو ایک ایسے وقت کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس میں قیادت نے کم از کم اپنے حامیوں کی نظر میں غیر معمولی سنجیدگی، متانت اور استحکام کا مظاہرہ کیا ہے۔







