تجزیہ: ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان رابطہ، پاکستان امریکا ایران جنگ روکنے کیلئے ثالثی میں متحرک، فنانشل ٹائمز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان رابطہ؛ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور ممکنہ جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کیلئے ثالثی کے کردار میں متحرک، اسلام آباد نے سفارتی سطح پر بیک چینل رابطے بھی تیز کر دیے۔

spot_imgspot_img

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان امریکا کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے خاتمے کیلئے ایک اہم ثالثی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور اسی مقصد کے تحت اسلام آباد نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان بیک چینل سفارتی رابطے بھی متحرک کر دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنی سفارتی حکمتِ عملی میں ایک طرف تہران کے ساتھ فوجی و سیاسی سطح پر موجود روابط کو بروئے کار لا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ گرمجوش تعلقات کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور مذاکرات کا راستہ کھلا رہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کیا۔ یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی پر عمل درآمد پانچ روز کیلئے مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔

فنانشل ٹائمز نے لکھا ہے کہ یہ بات ابھی واضح نہیں کہ پاکستان کی ثالثی کوششیں اور ٹرمپ کا یہ اعلان براہِ راست ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے یا نہیں، تاہم ان سفارتی رابطوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ضرور دیکھی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ترکیہ اور مصر بھی کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں شریک ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ترک ہم منصب حاکان فیدان سے بات چیت کی، جبکہ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے ایران، پاکستان، امریکی ایلچی اور قطر کے وزیر خارجہ سے بھی رابطے کیے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکا کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کی تردید کی ہے۔ تاہم فنانشل ٹائمز کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ کوششیں ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور فی الحال یہ عمل باقاعدہ مذاکرات کے بجائے صرف پیغامات کے تبادلے اور رابطہ کاری تک محدود ہے۔

چتھم ہاؤس سے وابستہ تجزیہ کار ثنم وکیل کے مطابق کئی ممالک اس تنازعے کو ٹھنڈا کرنے کیلئے سرگرم ہیں، لیکن موجودہ صورتحال کو جنگ کے فوری خاتمے کی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان نے اپنی سفارتی کوششوں کے حصے کے طور پر اسلام آباد کو ایک ممکنہ سربراہی ملاقات کے مقام کے طور پر بھی پیش کیا ہے، جہاں مستقبل میں امریکی اور ایرانی حکام آمنے سامنے بیٹھ سکتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان امریکا کا خطے میں وہ اتحادی ملک ہے جسے ایران کی جانب سے نہ تو میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور نہ ہی ڈرون حملوں کا، اور یہی پہلو اسے ایک نسبتاً غیر جانب دار ثالث کے طور پر مضبوط بناتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان ایران کے بعد دنیا کی دوسری بڑی شیعہ آبادی کا حامل ملک ہے، جبکہ خلیجی ریاستوں، خصوصاً سعودی عرب، کے ساتھ بھی اس کے قریبی اور عملی تعلقات موجود ہیں۔ یہی توازن اسلام آباد کو دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کیلئے ایک موزوں اور قابلِ قبول پوزیشن فراہم کرتا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی ایرانی نئے سال کے آغاز پر اپنے ایک تحریری پیغام میں پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی عوام کے ساتھ خصوصی تعلق اور قربت کا اظہار کیا۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

spot_img

خبریں

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

More from The Thursday Times

error: