کراچی (تھرسڈے ٹائمز) — مفتی عبدالرحیم نے کہا ہے کہ افغانستان کے وزیرِ دفاع مُلّا یعقوب 5 لاکھ ڈالرز کے عوض طالبان قیادت سے دستبردار ہو گئے تھے تاہم اِس کے باوجود وہ آج تک پاکستان سے ناراض ہیں کیونکہ پاکستان نے اُنہیں طالبان کا امیر نہیں بنایا تھا۔
معروف دینی درسگاہ جامعۃ الرشید (کراچی) کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے ایک نجی نیوز چینل پر گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کے پہلے سپریم لیڈر اور تحریکِ اسلامی طالبان کے بانی مُلّا محمد عمر مجاہد کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ مُلّا محمد عمر مجاہد پاکستان کیلئے گہری محبت رکھتے تھے۔
مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ مُلّا محمد عمر مجاہد کے بیٹے مُلّا محمد یعقوب مجاہد 20 برس تک پاکستان میں رہے اور پھر اپنے والد (مُلّا محمد عمر مجاہد) کی وفات کے بعد مُلّا یعقوب مجاہد نے افغان طالبان کی قیادت کا دعویٰ کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے والد کے جانشین ہیں۔
مہتمم جامعۃ الرشید نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے مُلّا محمد یعقوب مجاہد کی کم عمری کے باعث اِس درخواست کو در کر دیا اور اُنہیں 5 لاکھ ڈالرز بھی فراہم کیے گئے جبکہ مُلّا محمد یعقوب مجاہد نے اُس وقت تک افغانستان کو دیکھا تک نہ تھا۔
مفتی عبدالرحیم نے دعویٰ کیا کہ مُلّا یعقوب مجاہد پاکستان سے مایوس ہو گئے کیونکہ وہ توقع رکھتے تھے کہ پاکستان اُنہیں افغان طالبان کا امیر مقرر کرے گا تاہم پاکستان نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
جامعۃ الرشید کراچی کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستان نے مُلّا یعقوب کی بجائے افغان طالبان کے ایک راہنما مُلّا محمد اختر منصور کو طالبان کی قیادت سونپ دی تھی۔




