تجزیہ: پاکستان خطہ میں جاری جنگ کے خاتمہ کیلئے رابطہ کار کی حیثیت اختیار کر رہا ہے، فنانشل ٹائمز

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران تنازع میں رابطہ کاری کردار واشنگٹن کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ رکھنے والا پاکستان خطہ میں جاری جنگ کے خاتمہ کیلئے خود کو ثالث کے طور بھی پیش کر رہا ہے۔

spot_imgspot_img

لندن (تھرسڈے ٹائمز) — برطانوی جریدہ ’’فنانشل ٹائمز‘‘ کے مطابق پاکستان خطہ میں جاری جنگ کے خاتمہ میں واضح دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ یہ تنازع پاکستان کی کمزور معیشت اور داخلی سلامتی کو متاثر کر سکتا ہے، پاکستان کیلئے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ بھی تشویش کا باعث ہے کیونکہ اسلام آباد کو خدشہ ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ جنگ میں کِھنچ سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے رواں ہفتے پاکستانی پرچم والے متعدد آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کو ایک ’’تحفہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تہران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کیلئے ’’حقیقی اور مضبوط عزم‘‘ کا اظہار ہے۔

ایران کے اِس اقدام نے جنگ بندی کیلئے مذاکرات میں پاکستان کے نمایاں کردار کو بھی اُجاگر کیا ہے۔ اسلام آباد نے خود کو کئی ہفتوں سے جاری اِس تنازع میں، جس نے عالمی توانائی بحران کو جنم دیا اور تیل کی منڈی میں شدید اُتار چڑھاؤ پیدا کیا، ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان اِس تنازع میں ایک رابطہ کار کی حیثیت اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

فنانشل ٹائمز نے لکھا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر، جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ قرار دیا ہے، کیلئے بطور رابطہ کار کردار ادا کرنا واشنگٹن کے ساتھ پہلے سے بہتر ہوتے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان، جو ایران کے ساتھ ایک غیر مستحکم سرحد رکھتا ہے، خطہ میں جاری جنگ کے خاتمہ میں واضح دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ یہ تنازع پاکستان کی کمزور معیشت اور داخلی سلامتی کو متاثر کر سکتا ہے۔

تاہم اسلام آباد کیلئے اِس سفارتی عمل سے جڑے خطرات بھی کم نہیں ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی بڑھا رہے ہیں۔

واشنگٹن کے سٹیمسن سینٹر میں جنوبی ایشیاء پروگرام کی ڈائریکٹر الیزبتھ تھریکیلڈ نے فنانشل ٹائمز سے کہا کہ جنگ جتنی طویل ہوتی جائے گی پاکستان کیلئے توازن برقرار رکھنا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا، مذاکرات میں معاون کردار ادا کرنا امریکا کے ساتھ مزید خیر سگالی پیدا کر سکتا ہے لیکن اگر امریکا مذاکرات کو محض وقت حاصل کرنے کیلئے استعمال کرے تو پاکستان ایران کی نظر میں شریکِ جرم بن سکتا ہے جس سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان کا کردار حالیہ دِنوں میں مزید بڑھ گیا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی ایلچی سٹیو وِٹکوف سے بات کی ہے جبکہ ایرانی سیاسی و عسکری قیادت سے بھی رابطے کیے گئے ہیں۔

امریکی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ اسلام آباد نے امریکی 15 نکاتی امن منصوبہ ایرانی حکام تک پہنچایا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کی توانائی تنصیبات پر حملوں میں 10 دن کی مہلت دینے کا اعلان کیا تاکہ مذاکرات جاری رہ سکیں۔

فنانشل ٹائمز نے لکھا ہے کہ تہران نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تردید کی ہے اور اپنا 5 نکاتی فریم ورک پیش کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تنازع کے خاتمہ کیلئے بات چیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان اپنے تاریخی ثالثی کردار پر فخر کرتا ہے جس میں 1971 میں ہینری کیسینجر کا خفیہ دورہِ چین اور طالبان امریکا مذاکرات شامل ہیں۔

اسلام آباد نے حالیہ مہینوں میں تہران کے ساتھ تعلقات بھی مضبوط کیے ہیں حالانکہ جنوری 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار حملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ پاکستانی انٹیلیجنس اور ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے سرحدی سمگلنگ اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف تعاون بھی کیا۔

پاکستانی فوج کے خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ بھی مضبوط روابط ہیں۔ گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا جس کے مطابق ایک مُلک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور کیا جا سکتا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق یہی معاہدہ اب اسلام آباد کیلئے تشویش کا باعث بھی بن رہا ہے کیونکہ پاکستان کو خدشہ ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ جنگ میں کِھنچ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جمعہ کو ایران کے میزائل اور ڈرون حملے میں سعودی عرب کے پرنس سلطان ائیر بیس کو نشانہ بنایا گیا جس میں 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے۔

پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت کے خیالات سے واقف ایک شخص نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ ہمارے لئے مسئلہ بن رہا ہے، یہ مزاحمت کیلئے تھا لیکن ہمیں کوئی نئی سرمایہ کاری نہیں ملی اور مزاحمت ناکام ہو گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے گفتگو میں سعودی عرب کے تحمل کو سراہا اور مسلم دنیا کے اتحاد پر زور دیا۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق فعال عسکری شمولیت پاکستان کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کھڑا کر سکتی ہے جو مُلک میں غیر مقبول ہیں جبکہ ایران کو وسیع ہمدردی حاصل ہے۔

برہما جریدے نے لکھا ہے کہ پاکستان میں تقریباً چار کروڑ شیعہ آباد ہیں جو ایران کی موجودہ حکومت کو پسند کرتے ہیں۔ جنگ کے آغاز میں خامنہ ای کے قتل کے بعد پاکستان میں احتجاج ہوئے جن میں دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔

واشنگٹن میں مڈل ایسٹ پالیسی کونسل کے ایک تجزیہ کار نے فنانشل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کیلئے مسئلہ صرف جغرافیائی یا مذہبی نہیں بلکہ مُلک میں امریکا اور اسرائیل مخالف مضبوط جذبات بھی ہیں جن کے باعث ایران کیلئے عوامی ہمدردی پیدا ہوئی ہے، پاکستان سفارتکاری میں شامل ہوا تاکہ لڑائی میں کِھنچنے سے بچ سکے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق جنگ میں براہِ راست شمولیت پاکستان کی فوجی صلاحیت کو بھی دباؤ میں ڈال سکتی ہے کیونکہ وہ مغربی علاقوں میں دو شورشوں سے بھی نمٹ رہا ہے۔ مُلک توانائی بحران، مہنگائی اور بڑھتے درآمدی بِل کا بھی سامنا کر رہا ہے کیونکہ تقریباً تمام تیل و گیس خلیج سے آتی ہے۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

spot_img

خبریں

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

More from The Thursday Times

error: