ایران امریکا جنگ کے بیچ تہران تک پیغام رسانی میں پاکستان کے بڑھتے کردار نے اسلام آباد ملاقات کو غیر معمولی اہمیت دے دی

ایران امریکا جنگ، تہران تک پیغام رسانی میں پاکستان کے ابھرتے کردار اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی فوری کوششوں کے درمیان سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اسلام آباد آنا اس ملاقات کو معمول کی سفارتکاری سے کہیں زیادہ اہم بنا رہا ہے۔

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان ایک ایسے لمحے میں ایک اہم سفارتی سرگرمی کی میزبانی کرنے جا رہا ہے جب خطہ صرف عمومی کشیدگی نہیں بلکہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ، اس کے پھیلاؤ کے خطرات اور اس کے سفارتی انجام کے سوال سے بھی دوچار ہے۔ 29 اور 30 مارچ 2026 کو سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ اسلام آباد پہنچیں گے۔ یہ دورہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر ہو رہا ہے اور سرکاری بیان کے مطابق اس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی مشاورت ہو گی۔

اسحاق ڈار کی جانب سے شیئر کیے گئے سرکاری اعلامیے کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اسلام آباد کا مشترکہ دورہ کریں گے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تینوں وزرائے خارجہ پاکستانی قیادت کے ساتھ تفصیلی تبادلہ
خیال کریں گے اور وزیراعظم پاکستان سے بھی ملاقات کریں گے۔

لیہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان خود ایران اور امریکا کے درمیان پیغام رسانی اور ممکنہ سفارتی راستہ نکالنے کی کوششوں میں ایک رابطہ کار کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔ رائٹرز کے مطابق امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اس ہفتے تصدیق کی کہ امریکا نے ایران کو 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے اور پاکستان ابتدائی مرحلے میں ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ بعد ازاں رائٹرز نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ایران کے جواب کی توقع کی جا رہی تھی اور یہ مجوزہ فریم ورک پاکستان کے ذریعے تہران تک پہنچایا گیا تھا۔

اسی پس منظر میں اسلام آباد میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی موجودگی محض ایک معمول کا سفارتی اجتماع نہیں لگتی۔ یہ تینوں ممالک نہ صرف وسیع تر مسلم دنیا اور مشرق وسطیٰ کی سیاست میں وزن رکھتے ہیں بلکہ ایران، خلیج، عرب دنیا اور مغربی طاقتوں کے درمیان بدلتے ہوئے توازن میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملاقات کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں جنگ، سفارتکاری، علاقائی استحکام اور ممکنہ مذاکراتی راستوں پر ایک ہم آہنگ سوچ بنانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ اس بات کی تائید ان تازہ سفارتی رابطوں سے بھی ہوتی ہے جن میں مصری، ترک اور پاکستانی وزرائے خارجہ نے براہ راست امریکا ایران مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں پر گفتگو کی۔

پاکستان کے لیے اس ملاقات کی اہمیت دوہری ہے۔ ایک طرف اسلام آباد خود کو ایک ایسے دارالحکومت کے طور پر پیش کر رہا ہے جہاں کشیدہ علاقائی حالات میں سنجیدہ مشاورت ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف اگر ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی راستہ واقعی پاکستان کے ذریعے کھلتا ہے تو سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اسی لمحے اسلام آباد میں جمع ہونا پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی وزن کا واضح اشارہ بن جاتا ہے۔ اس تناظر میں یہ دورہ صرف تعلقات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک بڑی علاقائی ترتیب کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس میں مختلف طاقتیں جنگ کو پھیلنے سے روکنے اور ایک قابل قبول سیاسی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

یہ بھی قابل توجہ ہے کہ پاکستان کے بیان میں اگرچہ محتاط زبان استعمال کی گئی ہے اور بات باہمی دلچسپی کے امور، تعاون اور رابطہ کاری تک محدود رکھی گئی ہے، مگر بیرونی رپورٹنگ اس ملاقات کو زیادہ براہ راست ایران امریکا جنگ کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات مشرق وسطیٰ کی جنگ اور خطے میں تناؤ کم کرنے کی کوششوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ کچھ دیگر علاقائی رپورٹس نے بھی اسے امریکا ایران تنازع کے تناظر میں ایک اہم مشاورتی قدم قرار دیا ہے، اگرچہ ان میں بعض تجزیاتی دعوے ایسے بھی ہیں جنہیں ابھی محتاط نظر سے دیکھنا بہتر ہو گا۔

اس پورے منظرنامے میں اصل سوال یہ نہیں کہ یہ ملاقات اہم ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کی اہمیت کس درجے کی ہے۔ اگر ایران اور امریکا کے درمیان موجود جنگ سفارتی موڑ لیتی ہے تو اسلام آباد میں ہونے والی یہ مشاورت اس عمل کے ابتدائی اور زیادہ معنی خیز مراحل میں شمار کی جا سکتی ہے۔ اور اگر جنگ مزید پھیلتی ہے، تب بھی یہی ملاقات ان ریاستوں کے درمیان ایک ایسے رابطہ ڈھانچے کی بنیاد بن سکتی ہے جو بحران کے دوران مشترکہ سیاسی وزن استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

فی الحال اتنا واضح ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اس نازک مرحلے پر پاکستان آنا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک بڑے سفارتی حساب کا حصہ ہے، اور اس حساب میں پاکستان کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم دکھائی دے رہا ہے۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: