نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی اخبار ’’دی وال سٹریٹ جرنل‘‘ کے مطابق امریکا اور ایران کو مذاکرات کے میز تک لانے والا پاکستان عالمی سطح پر غیر معمولی سفارتی اہمیت حاصل کر رہا ہے۔ پاکستان نے صدر ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز پر واشنگٹن میں اپنے لیے نئی گنجائش پیدا کی جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان اب نہ صرف خطہ کے توازن میں اثر انداز ہو سکتا ہے بلکہ واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان ایک محتاط اور مؤثر پُل کے طور پر بھی خود کو منوا رہا ہے۔
پاکستان، جو کبھی اُسامہ بن لادن کو پناہ دینے کے الزام میں واشنگٹن کی جانب سے عدم اعتماد اور تنہائی کا شکار تھا، آج امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز تک لانے کی کوششوں میں غیر معمولی اہمیت حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد نہ صرف ممکنہ امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر رہا ہے بلکہ امریکی امن تجاویز تہران تک پہنچانے میں بھی پسِ پردہ ایک فعال کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر پاکستان کی اِس پیشکش کو نمایاں کیا جبکہ مشرقِ وسطیٰ کیلئے امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف نے کہا کہ امریکا کا 15 نکاتی امن منصوبہ ایران تک پہنچانے میں پاکستانی حکام نے مدد فراہم کی ہے۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق یہ پیغام ایک پاکستانی سہولت کاری والے بیک چینل کے ذریعہ تہران تک پہنچایا گیا۔
وال سٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ یہ پیش رفت اِس اعتبار سے غیر معمولی ہے کہ یہی پاکستان صدر ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں سخت تنقید کی زد میں تھا، اُس وقت ٹرمپ نے پاکستان کو ایسا مُلک قرار دیا تھا جس نے امریکا کو ’’جھوٹ اور فریب‘‘ کے سوا کچھ نہیں دیا۔ مگر اب حالات اِس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ اسلام آباد ایک ممکنہ امن ثالث کے طور پر زیرِ بحث ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کا یہ اُبھار محض اتفاق نہیں بلکہ حکمتِ عملی کے تحت ایک سفارتی اور تزویراتی عمل ہے۔ پاکستان کے بااثر حلقوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ قربت پیدا کرنے، اُن کے اندرونی سیاسی و معاشی حلقوں تک رسائی حاصل کرنے، اور کرپٹو کرنسی و اہم معدنیات جیسے شعبوں میں معاملات آگے بڑھانے کے ذریعہ امریکا میں پاکستان کیلئے نئی گنجائش پیدا کی ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق سیاسی ماہرین اِس سارے عمل میں پاکستان کے چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں۔ اُنہوں نے رواں برس کے اوائل میں سٹیو وِٹکوف سے وابستہ ایک فِرم اور حکومتِ پاکستان کے درمیان کرپٹو ڈیل کے دستخطی مرحلہ کی صدارت بھی کی۔ صدر ٹرمپ اُنہیں اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل بھی قرار دے چکے ہیں۔
پاکستانی اہمیت کی ایک بڑی وجہ اُس کا ایران کے ساتھ جغرافیائی اور سفارتی تعلق بھی ہے۔ ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد رکھنے والا پاکستان تہران کیلئے ایک دوست مُلک سمجھا جاتا ہے۔ اسحاق ڈار کے مطابق ایران نے پاکستانی پرچم بردار 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت بھی دی جبکہ تجارتی جہاز رانی کیلئے اِس آبی گزرگاہ پر شدید دباؤ اور غیر یقینی صورتحال برقرار رہی ہے۔
اگرچہ ایران نے امریکی 15 نکاتی امن منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اپنا پانچ نکاتی جواب دیا ہے، تاہم پاکستان نے یہ عندیہ دیا ہے کہ ثالثی کرنے والے ممالک کا ایک ابتدائی سربراہی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہونے والا ہے جس کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا اور کسی وسیع تر سفارتی عمل کی بنیاد رکھنا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق چاہے یہ کوششیں فوری طور پر باضابطہ امن مذاکرات میں تبدیل ہوں یا نہ ہوں، پاکستان پہلے ہی ایک اہم سفارتی کامیابی اپنے نام کر چکا ہے۔ امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے نقطۂ نظر سے یہ صورتحال ہر حال میں فائدہ مند ہے۔ اُن کے بقول معاہدہ ہو یا نہ ہو، پاکستان نے کم از کم یہ ضرور حاصل کر لیا ہے کہ اُس کے بارے میں تنہائی کا تاثر ختم ہو رہا ہے اور اب وہ مرکزی منظر نامہ پر دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان کیلئے اِس بحران کے خاتمہ کی خواہش کے ٹھوس داخلی اور خارجی اسباب بھی موجود ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی کارروائی میں ہلاکت کے بعد پاکستان میں شدید امریکا مخالف مظاہرے دیکھنے میں آئے کیونکہ پاکستان میں ایک بڑی شیعہ آبادی موجود ہے۔ کراچی سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں نے اِس حساس توازن کو مزید نمایاں کر دیا۔
اخبار یہ بھی لکھتا ہے کہ ستمبر میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ نیٹو طرز کے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ حسین حقانی کے مطابق ثالثی کا کردار ادا کرنا پاکستان کیلئے ایک عملی راستہ بھی ہے تاکہ اُس کو فوری طور پر سعودی دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے کہ وہ کسی ممکنہ علاقائی تصادم میں براہِ راست سعودی مؤقف کا حصہ بنے۔
تاہم ثالثی کا کردار خطرات سے خالی بھی نہیں۔ پاکستان کے سابق سفیر عمران علی نے وال سٹریٹ جرنل سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کو ایران اور سعودی عرب کے درمیان ایک نہایت مشکل سفارتی توازن قائم رکھنا پڑا ہے۔ اُن کے مطابق اسلام آباد کو ایک ایسی پیچیدہ سفارتی چال چلنا پڑ رہی ہے جس میں کسی ایک جانب جھکاؤ دوسری سمت میں نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور فوج نے اِس حوالہ سے اخبار کے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی کوئی باضابطہ مؤقف بیان نہیں کیا۔
وال سٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں امریکا اور پاکستان کے تعلقات کی تاریخی نوعیت کا بھی جائزہ لیا ہے۔ سرد جنگ اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران امریکا پاکستان کو ایک اہم اتحادی سمجھتا تھا۔ سی آئی اے نے نائن الیون حملوں کے ذمہ دار القاعدہ عناصر، بشمول اُسامہ بن لادن، تک پہنچنے کیلئے پاکستان کی فوج اور خفیہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا مگر جب 2011 میں اُسامہ بن لادن پاکستان کے ایک شہر میں رہتے ہوئے پائے گئے اور امریکی خفیہ کارروائی میں قتل کر دیئے گئے تو واشنگٹن میں پاکستان کے بارے میں رائے شدید طور پر منفی ہو گئی۔
یہاں تک کہ بائیڈن انتظامیہ نے 2024 تک پاکستان پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ ایسے میزائل نظام کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے جو امریکا تک پہنچ سکے۔ مگر اب یہی تعلقات نئے سِرے سے بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اِس تبدیلی کا آغاز صدر ٹرمپ کی دوسری مدت کے اوائل میں ہوا جب پینٹاگون نے اسلام آباد کو 2021 کے کابل ایئرپورٹ دھماکے کے ذمہ دار شدت پسند کو تلاش کر کے حوالے کرنے کا پیغام دیا۔ پاکستان نے اِس مطالبے پر عمل کیا جس پر ٹرمپ نے گزشتہ مارچ کانگریس سے خطاب میں پاکستان کی تعریف کی۔
اِس کے محض چند ہفتوں کے بعد اسلام آباد نے بھارت کے ساتھ ایک مختصر مگر حساس تنازع میں جنگ بندی کا کریڈٹ بھی امریکا کو دیا، اگرچہ نئی دہلی اِس بات سے اتفاق نہیں کرتا۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق بعض مبصرین کے نزدیک پاکستان کی جانب سے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کیلئے نامزد کرنا بھی ایک اہم سفارتی اشارہ تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹرمپ طویل عرصہ سے خود کو امن کے عالمی کردار کے طور پر منوانا چاہتے تھے۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستانی حکام نے ٹرمپ انتظامیہ اور صدارتی خاندان سے جڑے افراد کے ساتھ بھی روابط بڑھائے جبکہ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ اِن رابطوں کے پیچھے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کا اہم کردار تھا۔
اخبار کے مطابق پاکستان نے ٹرمپ خاندان کے کرپٹو منصوبے ’’ورلڈ لبرٹی فنانشل‘‘ کیلئے دو مرتبہ خصوصی سطح کا استقبال کیا۔ جنوری میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اسلام آباد میں ورلڈ لبرٹی کے چیف ایگزیکٹیو زیک وِٹکوف، جو سٹیو وِٹکوف کے بیٹے ہیں، کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی صدارت کی۔ اِسی موقع پر پاکستانی وزارتِ خزانہ کے ساتھ اِس معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے تحت پاکستان میں سٹیبل کوائنز کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لیا جانا تھا۔ اخبار کے مطابق یہ کسی غیر ملکی ریاست کے ساتھ اِس نوعیت کا پہلا معاہدہ تھا۔
زیک وِٹکوف نے گزشتہ برس اپریل میں بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی جبکہ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق اُن کا استقبال ایک باقاعدہ معزز مہمان کی طرح کیا گیا، یہاں تک کہ اُن کے اعزاز میں آتش بازی بھی کی گئی۔ پاکستان کے نئے ڈیجیٹل اثاثہ جاتی ریگولیٹری ادارے کے سربراہ بھی اِس کمپنی سے مشاورتی حیثیت میں وابستہ رہ چکے ہیں۔
رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ پاکستان کا ثالثی کردار دراصل ستمبر ہی سے سامنے آنا شروع ہو گیا تھا جب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات پہنچانے میں کردار ادا کیا۔ اگرچہ اُس وقت جوہری مذاکرات کو بحال کرنے کی یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی تاہم اِس نے پاکستان کو ایک قابلِ استعمال سفارتی چینل کے طور پر نمایاں کر دیا۔
اخبار کے مطابق 6 فروری کو جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات عمان کے دارالحکومت مسقط میں دوبارہ شروع ہوئے تو فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی وہاں پہنچے اور ایک عرب عہدیدار کے مطابق سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر سے اُن کے ہوٹل میں ملاقات کی۔ اگرچہ وہ ایرانی وفد کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا حصہ نہیں تھے مگر یہ ملاقات پاکستان کی پسِ پردہ حیثیت کو واضح کرتی ہے۔
پاکستان نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ کو روکنے میں صدر ٹرمپ کی ’’غیر معمولی مدبرانہ قیادت‘‘ کو سراہتے ہوئے اُنہیں امن انعام کیلئے نامزد بھی کیا اور بعد میں ٹرمپ کے بین الاقوامی بورڈ آف پیس میں شامل ہونے والے ابتدائی ممالک میں بھی رہا۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق اِسی بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں سٹیو وِٹکوف نے اعلان کیا کہ امریکا اور پاکستان نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کی مشترکہ بحالی کے منصوبے پر کام کریں گے جو پاکستان کی خسارے میں چلنے والی قومی ایئرلائن کی ملکیت ہے۔
بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں صدر ٹرمپ نے، جنہوں نے اِس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی بھی کی تھی، اُنہیں ایک سخت گیر، سنجیدہ اور مضبوط جنگجو قرار دیا۔
تاہم پاکستان، سیاسی ماہرین کے مطابق، امریکا اور ایران کو قریب لانے کیلئے جتنی بھی کوششیں کر رہا ہو، اسلام آباد غالباً براہِ راست مذاکراتی فریق نہیں بننا چاہے گا۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستان زیادہ موزوں طور پر ایک بیک چینل سہولت کار کا کردار ادا کرنا چاہے گا، جیسا کہ اُس نے افغانستان سے امریکی انخلاء کے دوران طالبان کے ساتھ رابطوں میں کیا تھا۔
سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ جب اسلام آباد میں جمع ہوں گے تو ماہرین کے مطابق اِن ملاقاتوں میں نہ صرف ممکنہ امریکا ایران رابطے کیلئے ابتدائی تیاریوں پر گفتگو ہو سکتی ہے بلکہ ثالثی کرنے والے ممالک کے درمیان اِس بحران کے حل کے طریقہ کار پر پائے جانے والے اختلافات کو بھی زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے۔
اسلام آباد کیلئے یہ محض ایک سفارتی اجلاس نہیں بلکہ اپنی نئی علاقائی اور عالمی حیثیت کو منوانے کا ایک نادر موقع ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان اب ایک ایسے مرحلہ پر کھڑا ہے جہاں وہ نہ صرف خطہ کے توازن میں اثر انداز ہو سکتا ہے بلکہ واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان ایک محتاط مگر مؤثر پُل کے طور پر بھی خود کو منوا رہا ہے۔







