کوالا لمپور (تھرسڈے ٹائمز) — ملائیشین نیوز ایجنسی ’’ڈیفینس سیکیورٹی ایشیاء‘‘ کی رپورٹ کے مطابق فرانس نے بھارت کو رافیل لڑاکا طیارے کے بنیادی سوفٹ ویئر اور نہایت حساس سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد بھارت کی فضائی خودمختاری، مقامی اسلحہ انضمام اور طویل المدتی دفاعی خود انحصاری کے دعووں پر سنجیدہ سوالات نے جنم لیا ہے۔ یہ فیصلہ محض ایک تکنیکی پابندی نہیں بلکہ ایسا سٹریٹیجک جھٹکا ہے جو آئندہ کئی دہائیوں تک بھارت کے فضائی جنگی ڈھانچے کو متاثر کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فرانسیسی بزنس جریدہ ’’لییسنیئیل ڈی لیکو‘‘ کے مطابق فرانس کا انکار خاص طور پر رافیل کے تھیلس آر بی ای ٹو ایکٹیو الیکٹرونکلی سکینڈ ایرے (اے ای ایس اے)، ائیر کرافٹ کا آپریشنل دماغ سمجھا جانے والا ماڈیولر ڈیٹا پروسیسنگ یونٹ (ایم ڈی پی یو) اور سپیکٹرا الیکٹرونک وارفیئر سوئیٹ سے متعلق ہے۔ یہی وہ سسٹمز ہیں جو رافیل کی سینسر فیوژن، بقاء کی صلاحیت اور برقی جنگی کارکردگی کی اصل بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ صرف ایک طیارہ نہیں بلکہ اُس کا ذہن، اعصاب اور دفاعی حس ہیں جن تک بھارت کو مکمل رسائی نہیں دی جا رہی۔
فرانسیسی اتھارٹیز کا مؤقف ہے کہ یہ سافٹ ویئر ڈھانچہ بہت حساس ہے جو برسوں کی تحقیق، ڈویلپمنٹ اور عسکری تحفظ کے تحت تیار کیا گیا ہے لہذا اِسے مکمل طور پر منتقل کرنا ممکن نہیں ہے۔ تاہم بھارت کیلئے اصل مسئلہ یہ ہے کہ سورس کوڈ تک رسائی کے بغیر وہ رافیل کو حقیقی معنوں میں اپنی مرضی کے مطابق جنگی پلیٹ فارم نہیں بنا سکتا۔ اِس کا مطلب ہے کہ اگر نئی دہلی اپنے مقامی ہتھیار، جیسے استرا بی وی آر میزائل یا ممکنہ طور پر براہموس فضائی کروز میزائل کو رافیل کے ساتھ آزادانہ طور پر جوڑنا چاہے تو اُسے بار بار فرانسیسی منظوری درکار ہو گی۔
یہی بات اِس تنازعہ کو ایک عام خریداری کے اختلاف کی بجائے قومی خودمختاری کے سوال میں تبدیل کر دیتی ہے۔ کسی بھی جدید لڑاکا طیارے میں سورس کوڈ پر اختیار اِس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ جنگ کے دوران کون اپنے نظام کو فوری طور پر بدل سکتا ہے، خطرات کے مطابق ریڈار کے رویہ میں تبدیلی لا سکتا ہے، برقی جوابی حملے بہتر بنا سکتا ہے اور نئے ہتھیار یا مقامی نظام کو کس رفتار سے شامل کر سکتا ہے۔ اگر یہ اختیار بیرونی ہاتھوں میں ہو تو طیارہ خریدنے والا مُلک مکمل طور پر خودمختار نہیں رہتا۔
اب بھارت کے مجوزہ 114 اضافی رافیل طیاروں کی خریداری، جو ملٹی رول فائٹر ائیر کرافٹ (ایم آر ایف اے) پروگرام کے تحت تقریباً 36 ارب امریکی ڈالرز کی ڈیل ہے، اب صرف تعداد یا قیمت کا معاملہ نہیں رہی۔ یہ سودا اگر موجودہ شرائط پر آگے بڑھتا ہے تو بھارت اپنی فضائیہ میں ایک ایسا بڑا بیڑا شامل کرے گا جس کی بنیادی برقی اور سافٹ ویئر ساخت پر حتمی کنٹرول فرانس کے پاس رہے گا۔
یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فضائیہ تقریباً 31 فائٹر سکواڈرنز پر آ چکی ہے جبکہ اُس کی منظور شدہ ضرورت 42 سکواڈرنز کی ہے۔ یعنی نئی دہلی پر فوری خریداری کا دباؤ بھی ہے اور طویل المدتی خودمختاری کا سوال بھی موجود ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس نے اِس معاملہ کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ یعنی بھارت کو جہازوں کی ضرورت بھی ہے اور پھر وہ ایسے جہاز چاہتا ہے جنہیں وہ مکمل طور پر اپنا بھی کہہ سکے۔
یہ تنازعہ ایک تاریخی دراڑ کو بھی ایک بار پھر سے نمایاں کرتا ہے جب 126 طیاروں کے میڈیم ملٹی رول کومبیٹ ائیر کرافٹ (ایم ایم آر سی اے) مقابلہ میں بھی رافیل کے تکنیکی طور پر منتخب ہونے کے باوجود ذمہ داری، معیار، لاگت اور ٹیکنالوجی منتقلی کی گہرائی جیسے معاملات پر مذاکرات منسوخ ہو گئے تھے۔ بعد ازاں 2016 میں 36 رافیل طیاروں کی 7 اعشاریہ 87 بلین یورو کے عوض حکومت سے حکومت خریداری نے فوری ضرورت تو پوری کر دی تاہم گہری سافٹ ویئر لیول ٹیکنالوجی کی منتقلی معاہدے کا حصہ نہ بن سکی۔ یوں جو سوال اُس وقت دبا دیا گیا تھا، وہ اب کہیں زیادہ بڑا ہو کر سامنے آ گیا ہے۔
ڈیفینس سیکیورٹی ایشیاء کے مطابق بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں نے اِس صورتحال کو ’’دماغ کے بغیر رافیل‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ محض جذباتی جملہ نہیں بلکہ ایک بنیادی عسکری خدشے کی عکاسی ہے۔ اگر ریڈار الگورتھمز، سپیکٹرا سوئیٹ کی تھریٹ لائبریریز، مشن کمپیوٹر اور ڈیٹا فیوژن پر آزادانہ اختیار نہ ہو تو بھارت ہر بڑی اپگریڈ، ہر مقامی انضمام اور ہر نئی جنگی ضرورت کیلئے بیرونی دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
یہ انحصار امن کے زمانہ میں شاید قابلِ برداشت لگے مگر بحران یا جنگ کے دوران یہی تاخیر مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر کسی نئے خطرے کے مطابق برقی دفاعی ردعمل فوری بدلنے کی ضرورت پڑے، یا ریڈار کے رویہ کو تازہ دشمنی کے ماحول کے مطابق ڈھالنا ہو تو منظوری، سرٹیفیکیشن اور معاہداتی عمل جنگی رفتار کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس سے آپریشنل خودمختاری کی اصل اہمیت سامنے آتی ہے۔
فرانس کا مؤقف دراصل مغربی دفاعی صنعت کے اُس وسیع تر رجحان سے جُڑا ہوا ہے جس میں انٹیلیکچوئل کیپیٹل، کمرشل لیوریج اور الائنس بیسڈ سیکیورٹی آرکیٹیکچرز کے تحفظ کیلئے ملکیتی سوفٹ ویئر کنٹرول اپنے پاس رکھا جاتا ہے۔ یعنی مغربی ممالک اور کمپنیز اپنے بنیادی سوفٹ ویئر، فکری ملکیت، تجارتی برتری اور اتحادی سلامتی ڈھانچوں کو سختی سے محفوظ رکھتے ہیں۔
مگر بھارت کے معاملہ میں اِس کی حساسیت کہیں زیادہ ہے کیونکہ نئی دہلی اپنی دفاعی پالیسی کو خود انحصاری اور مقامی پیداوار کے ستونوں پر استوار کرنے کا دعویٰ کرتا آیا ہے۔ اگر سب سے مہنگے اور جدید جنگی پلیٹ فارم میں بھی فیصلہ کُن کنٹرول بیرونِ مُلک ہاتھوں میں رہے تو پھر خود کفیل ہونے کا نعرہ اپنی معنوی طاقت کھونے لگتا ہے۔
اِسی دوران روس نے اِس بحران میں نئی دہلی کیلئے ایک متبادل کشش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق روس نے اپنے سیو 57 ای ففتھ جنریشن فائٹرز کیلئے نہ صرف مکمل سورس کوڈ تک رسائی بلکہ ڈیزائن دستاویزات اور حسبِ ضرورت تبدیلی کے اختیارات دینے کی پیشکش بھی کی ہے۔ روس کی ’’یونائٹیڈ ائیر کرافٹ کورپوریشن‘‘ کے سربراہ وادیم بادیخا نے 2025 میں کہا تھا کہ اگر سیو 57 ای فائٹر کے سورس کوڈ اور ڈیزائن دستاویزات بھارت کو منتقل کی جاتی ہیں تو بھارتی انجینئرز خود اِس طیارے کو جدید بنا سکیں گے اور اپنی ضروریات کے مطابق ڈھال سکیں گے۔ یہ پیشکش براہِ راست بھارت کے ’’آتم نربھر بھارت‘‘ بیانیہ سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے۔
یوں نئی دہلی اب ایک مشکل دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف رافیل ہے، جو جنگی اعتبار سے آزمودہ اور سیاسی طور پر مغربی شراکت داری کا حصہ ہے، مگر اُس کی بنیادی برقی ساخت پر مکمل اختیار نہیں دیا جا رہا۔ دوسری طرف روسی پیشکش ہے، جو زیادہ گہری تکنیکی شراکت اور مشترکہ پیداوار کی بات کرتی ہے، مگر اُس کے اپنے جغرافیائی سیاسی و عملی خطرات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاملہ اب صرف ایک سافٹ ویئر جھگڑا نہیں بلکہ بھارت کی آئندہ فضائی سمت، دفاعی خودمختاری، صنعتی حکمتِ عملی اور عالمی صف بندی کے درمیان ایک بڑا سٹریٹیجک امتحان بن چکا ہے۔
اگر فرانس اپنے مؤقف پر قائم رہتا ہے تو بھارت کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا وہ ایک ایسا بڑا فضائی بیڑا قبول کرے جس کے اہم ترین اعصابی نظام پر مکمل ملکی اختیار نہ ہو یا پھر وہ ایسی راہ تلاش کرے جو سست، پیچیدہ اور سیاسی طور پر زیادہ حساس مگر ٹیکنالوجی کے لحاظ سے زیادہ آزادانہ ہو۔ اِن حالات میں بھارت کیلئے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ وہ جدید ترین جنگی طاقت تو خرید سکتا ہے، مگر کیا اُس پر مکمل اختیار بھی حاصل کر سکتا ہے؟







