تجزیہ: پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے، رائٹرز

پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔

spot_imgspot_img

لندن (تھرسڈے ٹائمز) — برطانوی نیوز ایجنسی ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق پاکستان ایک برس پہلے تک سفارتی تنہائی کا شکار تھا تاہم اب وہ ایک قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم کرانے کیلئے ایک اہم ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔ یہ غیر معمولی تبدیلی بڑی حد تک پاکستان کے طاقتور عسکری سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں جن میں وائٹ ہاؤس میں ایک غیر معمولی ون آن ون ظہرانہ بھی شامل ہے۔ اِسی دوران پاکستانی حکومت نے داعش کے ایک ایسے بمبار کو گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کیا جس پر امریکی فوجیوں کے قتل کا الزام تھا۔

رائٹرز کے مطابق پاکستان نے اپنی ساکھ بحال کرنے کیلئے ایک اور اہم قدم یہ اٹھایا کہ اُس کے سفارت کاروں نے عالمی راہنماؤں کے ساتھ رابطوں کا ایک وسیع پروگرام شروع کیا جبکہ ساتھ ہی اپنے بڑے اتحادی چین کے ساتھ تعلقات کو بھی مزید مستحکم کیا۔

برطانیہ میں قائم گلوبل رِسک اینڈ سٹریٹیجک کنسلٹنٹ فِرم ’’کنٹرول رِسکس‘‘ سے وابستہ عالمی خطرات کی ایک تجزیہ کار نے ’’رائٹرز‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سول و عسکری قیادت نے ایک طرح کی چارم آفینسیو (سٹریٹیجک کمپیئن) شروع کر رکھی ہے جس کا بنیادی مقصد امریکا اور چین دونوں کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھتے ہوئے ایک مُتَنَوِّع خارجہ پالیسی اپنانا ہے جبکہ اِن تمام کوششوں کے اثرات اب نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

رائٹرز نے لکھا ہے کہ پاکستان میں اُسامہ بن لادن کے خلاف 2011 میں امریکی نیوی سیلز کے آپریشن کے بعد پاکستان کے امریکا اور مغرب کے ساتھ تعلقات شدید تنزلی کا شکار ہو گئے تھے۔ بعد ازاں سابق وزیراعظم عمران خان کی قید اور واشنگٹن کی جانب سے الزامات، کہ پاکستان نے 20 سالہ افغان جنگ کے دوران پس پردہ طالبان کی حمایت کی، اِن تعلقات کو مزید خراب کرتے گئے۔

برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق پاکستان معاشی سطح پر بھی تقریباً قرض نادہندگی کے دہانے تک پہنچ گیا تھا، تاہم تقریباً ڈیڑھ سال قبل آئی ایم ایف کے ساتھ سخت مذاکرات کے بعد ایک نیا معاہدہ طے پا گیا جس نے وقتی ریلیف فراہم کیا۔

واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کا نیا دور

رائٹرز نے لکھا ہے کہ تجزیہ کاروں اور حکومتی عہدیداروں کے مطابق واشنگٹن کے ساتھ اعتماد کی بحالی میں دو اہم موڑ فیصلہ کن ثابت ہوئے۔

پہلا بڑا بریک تھرو گزشتہ برس مارچ میں سامنے آیا جب پاکستان نے 2021 کے کابل ایئرپورٹ دھماکے سے منسلک ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری میں مدد فراہم کی۔ اِس حملے میں 170 افغان شہری اور 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اِس پیش رفت پر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کا علانیہ شکریہ ادا کیا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان انٹیلیجینس تعاون بھی دوبارہ فعال ہوا۔

مئی میں روایتی حریف بھارت کے ساتھ ہونے والی جھڑپ نے اِس تبدیلی کو مزید تقویت دی۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ 90 گھنٹے جاری رہنے والی اِس کشیدگی نے پاکستان کی سفارتی ساکھ کو بڑی تقویت فراہم کی کیونکہ پاکستانی عسکری قیادت نے بھارتی جنگی طیارے مار گِرانے کے بعد بھی غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کیا۔

جوہری طاقت رکھنے والے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان امریکی مداخلت سے کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہوا اور بعد ازاں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کیلئے نامزد بھی کیا۔

سول و ملٹری اعتماد اور ہم آہنگی

رائٹرز کے مطابق پاکستانی حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اِس نئی سفارتی تصویر کے پیچھے ایک مضبوط سول ملٹری ہم آہنگی اور خلیجی ممالک، امریکا اور چین کے ساتھ بیک وقت مؤثر تعلقات قائم رکھنے کی صلاحیت کار فرما ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے ’’رائٹرز‘‘ کو بتایا کہ اگر ایک عنصر ایسا ہے جس نے پاکستان کیلئے سفارتی مواقع کو سب سے زیادہ وسعت دی تو وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف کے درمیان موجود اعتماد اور ہم آہنگی ہے۔

وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کے روز سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراء خارجہ کی میزبانی کی جبکہ مذاکرات کا محور ایران میں جاری جنگ کا خاتمہ تھا۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ چونکہ اسحاق ڈار کے اُن وزراء خارجہ کے ساتھ بار بار روابط رہے ہیں لہذا وہ نجی سطح کی حساس باتوں سے لے کر سنجیدہ لمحات تک ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ کھل کر گفتگو کر سکتے ہیں۔

بہترین فیلڈ مارشل

اِس ایک سال کے اندر پاکستان کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کی سول و عسکری قیادت اور وائٹ ہاؤس کے درمیان مسلسل رابطے جاری ہیں۔ فیلڈ مارشل منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی امریکا کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں سرمایہ کاری کے مواقع، ٹرمپ خاندان سے وابستہ ایک کاروباری ادارے کے ساتھ کرپٹو معاہدہ اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی جیسے موضوعات شامل رہے۔ یوں پاکستان کی نئی سفارتی پوزیشن کاروباری مفادات اور جغرافیائی سیاسی اشتراک کے امتزاج کے ساتھ مضبوط ہوتی رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ قرار دے چکے ہیں۔ وہ رواں برس ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کرنے والے واحد حاضر سروس فوجی سربراہ بھی تھے۔ ذرائع کے مطابق وہاں بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مزید ملاقاتیں ہوئیں جبکہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس سے کئی بار گفتگو کر چکے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق منگل کے روز بھی جے ڈی وینس نے ایران تنازع سے متعلق پاکستانی ثالثوں سے رابطہ رکھا اور واضح کیا کہ اگر بعض شرائط پوری کر دی جائیں تو ٹرمپ جنگ بندی پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ایرانی صدر سے متعدد ملاقاتیں کی ہیں۔

بھارت میں بےچینی

رائٹرز کے مطابق عالمی سفارتی منظر نامہ میں پاکستان کا اُبھار بھارت میں بےچینی پیدا کر رہا ہے، کیونکہ عموماً دونوں حریف ممالک میں سفارتی برتری نئی دہلی کے حصہ میں آتی رہی ہے۔ بھارت کی اپوزیشن نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ پر حکومت کے نسبتاً غیر مؤثر مؤقف پر سوال اٹھائے ہیں جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی اہمیت نئی دہلی کو علاقائی سفارتکاری کے حاشیے پر دھکیل سکتی ہے۔

بھارتی اپوزیشن راہنما ششی تھرور نے کہا ہے کہ وہ تقریباً تین ہفتوں سے یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ بھارت دونوں فریقوں کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے امن اقدام کی قیادت کرے۔ اُن کے بقول اب بظاہر پاکستان، مصر اور ترکیہ نے یہ کردار سنبھال لیا ہے۔ ششی تھرور نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اُنہیں مبارک ہو، لیکن اِس پورے عمل میں بھارت کو کوئی کریڈٹ نہیں ملا جبکہ پاکستان امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق اسلام آباد فی الوقت ہمسایہ افغانستان کے ساتھ اپنے علیحدہ تنازع میں بھی اُلجھا ہوا ہے، جس میں اُس وقت اضافہ ہوا جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے تہران پر حملے شروع کیے جانے سے چند روز پہلے سرحدی کشیدگی بڑھی۔

امریکی سٹریٹیجک ایڈوائزری فِرم ’’دی ایشیاء گروپ‘‘ سے وابستہ عزیر یونس نے ’’رائٹرز‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنی قومی طاقت کے بنیادی ستون، خصوصاً معیشت، مضبوط بنانے کیلئے اندرونی استحکام پر مسلسل توجہ دینا ہو گی جبکہ پاکستان کو سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ شراکت میں ایک مربوط دفاعی صنعتی ڈھانچہ بھی تشکیل دینا چاہیے۔

رائٹرز کے مطابق ’’کنٹرول رِسکس‘‘ سے وابستہ ارسلہ جاوید نے بھی خبردار کیا کہ اسلام آباد کو ایران کے ساتھ تعلقات، ریاض کے ساتھ دفاعی شراکت اور واشنگٹن سے روابط کے درمیان توازن قائم رکھنے کیلئے ایک طویل المدتی حکمتِ عملی درکار ہو گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جنگ غیر متوقع اور طویل بھی ہو سکتی ہے، سول و عسکری قیادت کو پاکستان کے کردار کے بارے میں بہت محتاط رہنا ہو گا، اگر ثالثی کے کردار کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا یا اُسے دانشمندی سے نہ سنبھالا گیا تو یہ فائدے کے بجائے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

spot_img

خبریں

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

More from The Thursday Times

error: