تجزیہ: پاکستان کو عالمی سفارتی افق پر ایک بار پھر مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، وال سٹریٹ جرنل

پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کی صَف اَوَّل میں کھڑا ہو گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے قریبی تعلقات اور امریکا ایران تنازع میں اسلام آباد کی مؤثر سفارتکاری نے پاکستان کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ اِن حالات میں عمران خان کی واپسی کے امکانات کمزور ہوتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ فی الحال نظام تبدیل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

spot_imgspot_img

نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی اخبار ’’دی وال سٹریٹ جرنل‘‘ کے مطابق امریکا و اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی میں اسلام آباد کا نمایاں کردار پاکستان کو غیر معمولی طور پر عالمی سفارت کاری کی صَف اَوَّل میں لے آیا ہے۔ اسلام آباد نے واشنگٹن، بیجنگ، تہران اور ریاض سمیت اہم دارالحکومتوں کے ساتھ اپنے تعلقات بروئے کار لاتے ہوئے ایک ایسے تصادم کو روکنے میں مدد دی ہے جس سے عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق تھے۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستان کی اِس سفارتی سرگرمی نے مُلک کی داخلی سیاست میں بھی ایک نمایاں تبدیلی کو اُجاگر کیا ہے جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی روابط قائم کرتے ہوئے اپنی گرفت مزید مضبوط کی۔ ہے۔

امریکی ریاست میریلینڈ کے مکڈینیئل کالج کے ایک ماہرِ سیاسیات نے ’’دی وال سٹریٹ جرنل‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی واپسی کے امکانات کمزور دکھائی دیتے ہیں اور فی الحال موجودہ نظام تبدیل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کُھل کر تعریف کرتے ہوئے اُنہیں اپنا ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ کہہ چکے ہیں۔ مزید برآں، ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ’’عظیم جنگجو‘‘ اور ’’غیر معمولی شخصیت‘‘ بھی قرار دیا ہے۔ تاہم امریکی صدر نے اپنی دوسری مدتِ صدارت میں عمران خان کے حوالہ سے کسی عمومی رائے کا اظہار نہیں کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کے مرکزی کردار کے باعث عمران خان کی سیاسی صورتحال عالمی توجہ سے باہر ہو گئی ہے جبکہ مغربی دنیا میں چند محدود حلقوں کے علاوہ عمران خان کی حمایت اب کمزور دکھائی دیتی ہے۔

امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ نومبر 2022 میں آرمی چیف بننے کے بعد جنرل عاصم منیر نے طاقت کے اِرتِکاز کیلئے متعدد اقدامات کیے۔ گزشتہ برس مئی میں بھارت کے ساتھ مختصر تنازع کے بعد اُنہیں فیلڈ مارشل کے عہدہ پر ترقی دے دی گئی اور اب توقع ہے کہ وہ کم از کم 2030 تک عہدے پر براجمان رہیں گے۔

امریکی تھنک ٹینک ’’سٹیمسن سینٹر‘‘ کی ماہر الیزبتھ تھریلکیلڈ نے ’’دی وال سٹریٹ جرنل‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد پاکستان جیو پولیٹیکل منظر نامہ سے تقریباً غائب ہو گیا تھا، مگر ایران بحران میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے جس سے اسلام آباد کو دوبارہ مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان قریبی تعلقات نے ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو مضبوط کیا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی مضبوطی میں پاکستان کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کیلئے نامزد کرنا، انسدادِ دہشتگردی میں تعاون فراہم کرنا اور غزہ امن عمل سے متعلق ہم آہنگی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستان اب بھی معاشی دباؤ اور داخلی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جبکہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون مستقبل میں پاکستان کو خطہ کے تنازعات میں براہِ راست شامل بھی کر سکتا ہے۔ تاہم فی الحال پاکستان نے سفارت کاری کے ذریعہ خود کو عالمی سطح پر ایک کلیدی ثالث کے طور پر منوا لیا ہے۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

spot_img

خبریں

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

More from The Thursday Times

error: