پاکستان کی 2025 میں سفارتی معجزات کی بدولت خارجہ محاذ پر پاکستان کی غیر معمولی کامیابیاں۔ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ، امریکہ سے تعلقات کی بحالی، ایران اور ترکی کے ساتھ اقتصادی تعاون، اور چین کے ساتھ تعلقات کا فروغ اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی نے خطے کا توازن بدل دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے سفارتی مہارت سے ثابت کیا کہ ٹرمپ جیسے طاقتور رہنما سے کیسے مؤثر انداز میں ڈیل کی جاتی ہے۔ غزہ جنگ بندی کے بعد ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا “پسندیدہ فیلڈ مارشل” قرار دیا، جبکہ واشنگٹن اسلام آباد کو خطے میں اہم شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
Khyber Pakhtunkhwa’s political unrest under Sohail Afridi reveals a province caught between noise and neglect, as Pakistan’s federal resolve is tested by a populist movement that confuses chaos for courage and defiance for governance.
پاکستان نے امریکہ کو بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں بحیرۂ عرب پر نئی بندرگاہ قائم کرنے اور اس کا انتظام سنبھالنے کی پیشکش کی ہے۔ منصوبے کا مقصد امریکی سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کے معدنی وسائل تک واشنگٹن کی رسائی بڑھانا ہے۔ یہ اقدام اسلام آباد کی نئی سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جو چین، امریکہ، ایران اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات کو ازسرِنو ترتیب دینے پر مرکوز ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ خطے میں نئی صف بندی کی علامت بن گیا ہے اور بھارت میں تشویش اور بے چینی پیدا کر رہا ہے کیونکہ اس میں باہمی دفاع کی شق شامل ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کو سعودی مالی اور سیاسی پشت پناہی دے سکتا ہے اور طویل مدت میں خطے کی سکیورٹی صورتحال بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔