امریکا کی 15 نکاتی تجویز پاکستانی ثالثی کے ذریعہ تہران پہنچا دی گئی جس کا مقصد ایران کے خلاف جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔ اسلام آباد ایک بااعتماد سفارتی چینل کی حیثیت اختیار کر چکا جس کے ذریعہ واشنگٹن اور تہران کے مابین کشیدگی کم کرنے کا راستہ نکالا جا رہا ہے۔
پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کیلئے پس پردہ سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے، شہباز شریف کی تہران سے گفتگو، اور اسحاق ڈار کی علاقائی سفارت کاری نے اسلام آباد کو ایک ممکنہ مذاکراتی مرکز کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔
Pakistan is quietly but actively positioning itself as a possible mediator in the US-Iran crisis, with its military and political leadership engaging Washington, Tehran and Gulf capitals in an effort to prevent the conflict from widening and to bring diplomacy back to the table.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان رابطہ؛ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور ممکنہ جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کیلئے ثالثی کے کردار میں متحرک، اسلام آباد نے سفارتی سطح پر بیک چینل رابطے بھی تیز کر دیے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر امریکا ایران جنگ بندی کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کیساتھ بات چیت کی تصدیق کرتے ہوئے ایرانی پاور پلانٹس پر حملے 5 روز تک ملتوی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایران معاہدے کیلئے بےتاب ہے۔