امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیم نے ایران سے ممکنہ مذاکرات کے لیے پسِ پردہ منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت جیسے اہم معاملات زیرِ غور ہیں، جبکہ تہران جنگ بندی، مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت اور نقصان کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
Israel says a targeted strike killed Ali Larijani, one of Iran’s most senior security figures, but Tehran had not confirmed the claim at the time of reporting. If verified, it would mark one of the biggest direct blows yet to Iran’s leadership in the current conflict.
دنیا پر جنگل کا قانون مسلط نہیں ہونا چاہیے۔ زبردستی نظام کی تبدیلی کی کوششوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکتی۔ بےگناہ شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کیلئے فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔
India failed to down any Pakistani aircraft during the recent conflict, while Pakistan’s J-10C fighter jets showcased outstanding performance, shooting down seven Indian planes. Chinese-made weapons, radar, and satellite systems proved highly effective throughout the engagement.
معرکۂ حق میں بھارت پاکستان کا کوئی طیارہ گرانے میں ناکام رہا، جبکہ جے-10 سی طیاروں نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے سات بھارتی طیارے مار گرائے۔ مئی میں بھارت کے ساتھ چار روزہ جھڑپ کے دوران چینی ساختہ ہتھیاروں نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب پاکستان نے بڑے پیمانے پر چینی ہتھیاروں، ریڈار اور سیٹلائٹ نظام کا مؤثر استعمال کیا۔
Pakistan says the United States and Iran have expressed confidence in its role as a potential facilitator for talks, with Islamabad saying it would be honoured to host negotiations in the coming days.
امریکا و ایران دونوں نے ممکنہ مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ پاکستان آئندہ چند روز میں ممکنہ مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خطہ میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت اور تائید کی۔
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
Pakistan is preparing to host the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey and Egypt for bilateral meetings and a four-country diplomatic session in Islamabad that is expected to conclude with a joint communiqué and possibly a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif.
مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اتوار کی صبح، سعودی وزیرِ خارجہ سہ پہر پاکستان پہنچیں گے۔ شام کو چاروں وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہو گی جبکہ عشائیہ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔