پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کیلئے پس پردہ سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے، شہباز شریف کی تہران سے گفتگو، اور اسحاق ڈار کی علاقائی سفارت کاری نے اسلام آباد کو ایک ممکنہ مذاکراتی مرکز کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔
Pakistan is quietly but actively positioning itself as a possible mediator in the US-Iran crisis, with its military and political leadership engaging Washington, Tehran and Gulf capitals in an effort to prevent the conflict from widening and to bring diplomacy back to the table.
پاکستان ایران بحران میں خاموش مگر اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے، وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی قیادت سے گفتگو اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی علاقائی سطح پر سرگرمیوں نے اسلام آباد کو ایک ممکنہ ثالثی مرکز کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔ پاکستان بظاہر جنگ کے بجائے بات چیت، رابطے اور کشیدگی میں کمی کی راہ کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر امریکا ایران جنگ بندی کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کیساتھ بات چیت کی تصدیق کرتے ہوئے ایرانی پاور پلانٹس پر حملے 5 روز تک ملتوی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایران معاہدے کیلئے بےتاب ہے۔
Joe Kent, Director of the National Counterterrorism Center, has resigned with immediate effect, stating that he cannot support the US war in Iran, arguing that Tehran posed no imminent threat, and questioning the basis on which the conflict has been pursued.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات جولائی 2026 میں پہلی مرتبہ 1.833 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ صرف ایک ماہ میں 43 فیصد اضافے کے ساتھ ٹیکسٹائل شعبہ نئے مالی سال کے آغاز میں بھی پاکستان کی برآمدی معیشت کا سب سے بڑا ستون بن کر سامنے آیا۔
Pakistan's textile exports reached $1.833 billion in July, the highest monthly figure on record, up 43 percent from June and 9.11 percent on the same month last year. Total exports rose 10 percent to $2.96 billion, with textiles the clear driver.