Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران تنازع میں رابطہ کاری کردار واشنگٹن کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ رکھنے والا پاکستان خطہ میں جاری جنگ کے خاتمہ کیلئے خود کو ثالث کے طور بھی پیش کر رہا ہے۔
امریکا ایران جنگ کے دوران دنیا میں پاکستان کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ بھارتی تنہائی کی وجہ مودی شخصی سفارتکاری ہے۔ بھارت اور افغانستان کے علاوہ کوئی پاکستان کو ظالم ریاست نہیں کہتا۔ آر ایس ایس کا پاکستان توڑنے کا خواب پورا نہیں ہو گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی درخواست پر ایران کی انرجی تنصیبات کی تباہی کیلئے امریکی حملے مزید 10 روز تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان پسِ پردہ سفارتی روابط میں اہم کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات جولائی 2026 میں پہلی مرتبہ 1.833 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ صرف ایک ماہ میں 43 فیصد اضافے کے ساتھ ٹیکسٹائل شعبہ نئے مالی سال کے آغاز میں بھی پاکستان کی برآمدی معیشت کا سب سے بڑا ستون بن کر سامنے آیا۔
Pakistan's textile exports reached $1.833 billion in July, the highest monthly figure on record, up 43 percent from June and 9.11 percent on the same month last year. Total exports rose 10 percent to $2.96 billion, with textiles the clear driver.