Pakistan’s Chairman of the Joint Chiefs of Staff Committee met Bangladesh’s chief adviser in Dhaka to discuss stronger economic and defence cooperation while highlighting regional security concerns. The visit is being viewed as a significant diplomatic step after more than five decades without a high-level military delegation.
پاکستانی اعلیٰ عسکری قیادت کا 54 برس بعد بنگلہ دیش کا دورہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ساحر شمشاد مرزا کی ڈھاکہ میں چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے ملاقات۔ دفاعی، تجارتی اور علاقائی تعاون پر اہم گفتگو۔
پاکستان کی 2025 میں سفارتی معجزات کی بدولت خارجہ محاذ پر پاکستان کی غیر معمولی کامیابیاں۔ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ، امریکہ سے تعلقات کی بحالی، ایران اور ترکی کے ساتھ اقتصادی تعاون، اور چین کے ساتھ تعلقات کا فروغ اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی نے خطے کا توازن بدل دیا ہے۔
Security forces have dismantled smuggling and terrorist networks. The Pakistan–Saudi defence pact is not directed against any third party. Pakistan has no intention of recognising Israel. All partnerships in minerals, port investments, and international cooperation will be pursued strictly in line with national interest.
سیکیورٹی فورسز نے اسمگلنگ اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو بڑی حد تک توڑ دیا ہے۔ پاک سعودی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں بلکہ دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کے لیے ہے، پاکستان نے اسرائیل کو قبول نہیں کیا، نا اس حوالے سے پاکستان میں کوئی سوچ ہے۔ معدنیات، بندرگاہی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی شراکت داری صرف قومی مفاد کے تحت ہوں گی۔
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔
Prime Minister Shehbaz Sharif has signed the Islamabad MoU as mediator after Donald Trump and Masoud Pezeshkian endorsed the US-Iran agreement aimed at ending hostilities and reopening the Strait of Hormuz.