امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیم نے ایران سے ممکنہ مذاکرات کے لیے پسِ پردہ منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت جیسے اہم معاملات زیرِ غور ہیں، جبکہ تہران جنگ بندی، مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت اور نقصان کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
Trump pledges to "always protect" Saudi Arabia, highlighting his personal bond with Crown Prince Mohammed bin Salman while also pursuing business ventures like the planned Trump Tower in Jeddah and a $2 billion investment from the Saudi wealth fund into his son-in-law Jared Kushner's investment fund.
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.