جتنا ضروری گلی محلوں سے کوڑا کرکٹ کا خاتمہ ہے، اتنا ہی ضروری پنجاب اور پاکستان سے سیاسی گند کو صاف کرنا ہے۔ مظاہروں کے پیچھے خیبرپختونخواہ کی حکومت کا ہاتھ ہے جو عوامی پیسوں کووفاق اور پنجاب پر حملے کیلئے استعمال کررہی ہے۔ ملک میں غیر ملکی دہشتگردوں کو ہتھیار دیے گئے اور انہیں ٹاسک دیا گیا کہ وہ ملک میں انتشار پھیلائیں۔
پی ٹی آئی نے پاکستان میں بدتمیزی و بدتہذیبی کے کلچر کی بنیاد رکھی، اسکے علاوہ کوئی منصوبہ نہیں دیا۔ بھارتی ٹیم کو چیمپیئنز ٹرافی کھیلنے پاکستان ضرور آنا چاہیے۔ پاکستان کے تمام ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے چاہئیں۔ ملکی معیشت اب بہتر ہو رہی ہے، نواز شریف۔
Nawaz Sharif calls on India to foster goodwill by sending its cricket team to Pakistan, emphasizing sports diplomacy and urging improved ties with neighbouring countries; he also condemns recent attacks on officials, reflecting on Pakistan's shifting political culture.
Bilawal Bhutto-Zardari takes aim the PML(N) over extremely poor air quality in Punjab, contrasting it with cleaner air in PPP-governed Karachi, as smog clouds Punjab’s cities.
Punjab plans to acquire PIA and rebrand as 'Air Punjab', aiming for better connectivity and economic boost with a focus on global direct flights to New York, Tokyo, Hong Kong, and London from all major Pakistani airports.
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔