سعودی وزیرِ خارجہ کے پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور روسی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطے، خطہ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب گفتگو میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے سفارتی روابط اور سیاسی مشاورت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
قطر سمیت خلیجی و عرب ممالک پر ایرانی حملے بلاجواز ہیں جن کی منصوبہ بندی پہلے سے کی جا چکی تھی۔ ایران نے قطر میں سویلین و انرجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو خطرناک و غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔ ایران کے غلط اندازوں نے اعتماد سمیت سب کچھ تباہ کر دیا۔
ایران کی مجلسِ خبرگان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کا اعلان کر دیا۔ وہ ایک ایسے جنگی ماحول میں اقتدار سنبھال رہے ہیں جب ریاستی نظام اپنی بقاء کیلئے سب کچھ داؤ پر لگا چکا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ریاستی اداروں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والی سخت گیر شخصیت کے حامل ہیں۔
Ayatollah Seyyed Mojtaba Hosseini Khamenei has been appointed Iran’s new supreme leader, formalising a wartime succession that keeps power within the late Ali Khamenei’s family and signals hardline continuity at the top of the Islamic Republic.
دنیا پر جنگل کا قانون مسلط نہیں ہونا چاہیے۔ زبردستی نظام کی تبدیلی کی کوششوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکتی۔ بےگناہ شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کیلئے فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔
Pakistan says the United States and Iran have expressed confidence in its role as a potential facilitator for talks, with Islamabad saying it would be honoured to host negotiations in the coming days.
امریکا و ایران دونوں نے ممکنہ مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ پاکستان آئندہ چند روز میں ممکنہ مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خطہ میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت اور تائید کی۔
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
Pakistan is preparing to host the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey and Egypt for bilateral meetings and a four-country diplomatic session in Islamabad that is expected to conclude with a joint communiqué and possibly a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif.
مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اتوار کی صبح، سعودی وزیرِ خارجہ سہ پہر پاکستان پہنچیں گے۔ شام کو چاروں وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہو گی جبکہ عشائیہ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔