ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں اسلام آباد نے واشنگٹن میں مؤثر تزویراتی واپسی اور قابلِ اعتماد شراکت داری کو یقینی بنایا ہے جبکہ یہ صورتحال بھارت کیلئے پریشان کن ہے، ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر کیلئے ذاتی رغبت کے باعث پاک امریکا تعلقات کو تقویت ملی ہے۔
نریندر مودی کی ذاتی زندگی بارے امریکی ایجنسیوں کے پاس ایسا مواد اور تصاویر موجود ہیں جن کے باعث ان کیلئے امریکی دباؤ سے بچنا مشکل ہو سکتا ہے، یہ صورتحال بھارت کے قومی مفادات کیلئے نقصان دہ ثابت ہو کر ملک کو غیر ملکی بلیک میلنگ کا شکار بنا سکتی ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان کے سب سے زیادہ بااختیار آرمی چیف ہیں جنہوں نے مئی میں بھارت کے خلاف جنگ اور وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے قریبی روابط کے ذریعہ پاکستان کو دوبارہ جیو پولیٹیکل مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، امریکا پاکستان سے تعلقات مضبوط بنا کر خطہ میں طاقت کا توازن از سرِ نو ترتیب دے رہا ہے۔
Pakistan stands with Sikhs, not against them — Pannun calls it a future ally of Khalistan. He urges Sikh soldiers: reject Modi’s war, this fight isn’t yours.
Indian intelligence officer Vikash Yadav has been charged with plotting to kill Sikh activist Gurpatwant Singh Pannun on U.S. soil, escalating diplomatic tensions between India, the U.S., and Canada.
پاکستان سعودی عرب دفاعی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت متوقع؛ جنگی تجربات رکھنے والی افواج کے حامل پاکستان کا کردار کلیدی ہے، جنوبی ایشائی ایٹمی طاقت کسی بھی شراکت داری کو مضبوط دفاعی ساکھ فراہم کرتی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔