موجودہ اسٹیبلشمنٹ کا ماننا ہے کہ 2014 سے میاں نواز شریف کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور اگر اس وقت کے اقدامات نہ ہوتے تو آج پاکستان اس بحران میں نہ ہوتا۔ عدلیہ کو پیغام دیا گیا ہے کہ آپ نے اپنا زور لگا لیا، اب ہماری باری ہے۔ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ جو جرم کا اعتراف نہیں کرے گا، وہ نتائج کے لیے تیار ہو جائے۔
عمران خان کی جیل سے فوری رہائی ہوتی نظر نہیں آ رہی، مسلم لیگ ن کی موجودہ اتحادی حکومت قائم رہے گی۔ نئے آئی ایم ایف فنڈز کی تقسیم اور بہتر ہوتی معیشت چھوٹی جماعتوں کو حکومتی اتحاد کا حصہ رہنے کی ترغیب دے گی۔ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ
ہم نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے، تحریکِ انصاف پر آرٹیکل 6 ضرور لگنا چاہیے، پی ٹی آئی پر پابندی کیلئے پارلیمنٹ میں اتحادی جماعتوں سے مشاورت کریں گے، نو مئی پاکستان کے وجود پر حملہ تھا، امریکا غزہ سے متعلق بھی تشویش کا اظہار کرے۔
نواز شریف کا دل سے احترام کرتا ہوں، خوشی ہے کہ ان کے بھائی وزیراعظم پاکستان ہیں، آذربائیجان مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور ہمیشہ اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
بجلی کے 200 یونٹس استعمال کرنے والے اڑھائی کروڑ صارفین کیلئے 3 ماہ کے بجلی کے بلوں میں 4 سے 7 روپے فی یونٹ بجلی سستی کی جا رہی ہے جس کیلئے 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو ڈویلپمنٹ فنڈز سے نکالے جا رہے ہیں۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.