فیلڈ مارشل عاصم منیر گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان کے سب سے زیادہ بااختیار آرمی چیف ہیں جنہوں نے مئی میں بھارت کے خلاف جنگ اور وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے قریبی روابط کے ذریعہ پاکستان کو دوبارہ جیو پولیٹیکل مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، امریکا پاکستان سے تعلقات مضبوط بنا کر خطہ میں طاقت کا توازن از سرِ نو ترتیب دے رہا ہے۔
Pakistan’s army chief Asim Munir hails a “victory over India” and invokes faith during a high profile ceremony in Islamabad where President Asif Ali Zardari awards Jordan’s King Abdullah II the Nishan i Pakistan, blending military messaging with diplomatic theatre.
جنگ مسلط کرنے والوں کو اسی طرح جواب دیں گے جیسے مئی میں دیا۔ بھارت کے خلاف جنگ میں اللّٰه نے پاکستان کو سربلند کیا، فتح دلانے پر اللّٰه کے شکر گزار ہیں۔ مسلمان اللّٰه پر بھروسہ کرتا ہے تو دشمن پر پھینکی مٹی بھی میزائل بن جاتی ہے۔
عمران خان کی افغان پالیسی نے قومی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔ سفارتی احتیاط اور ریاستی حکمت کے بجائے انہوں نے قومی مفاد کو ذاتی مقبولیت کے تابع کر دیا، یوں وہ تمام رکاوٹیں کمزور ہو گئیں جو دشمن کی واپسی کے راستے میں حائل تھیں۔ آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، وہ پالیسی کی اصلاح نہیں بلکہ تاخیر سے شروع ہونے والا ایک مشکل اور ناگزیر ریسکیو مشن ہے۔
پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان نے ہمیشہ دوستی اور یکجہتی کا ثبوت دیا اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ تینوں ممالک کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ جنگ میں ترکیہ اور آذربائیجان کی حکومتیں پاکستان کے ساتھ کھڑی رہیں۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔