Pakistan's government launches a crackdown on sugar hoarders by placing their names on the Exit Control List and pledges strict market controls as prices climb past Rs. 170 per kg while importing 500,000 tons to stabilise supply and blame shifts to climate and commercial demand.
Pakistan’s exports reached $31.75 billion in FY2024–25 driven by strong textile and non-traditional sector growth while the government introduces AI-driven export strategies and new global market plans to sustain momentum amid global trade instability.
BYD will begin assembling electric vehicles in Pakistan by mid-2026, with plans to produce 25,000 units annually and capture a significant share of the country’s growing EV market.
بیرونِ ملک مقیم پاکستانی وطن کے حقیقی سفیر ہیں، جو نہ صرف پاکستان کا عالمی تشخص بلند کر رہے ہیں بلکہ ترسیلاتِ زر، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے ملکی معیشت کی مضبوطی میں بھی کلیدی حصہ ڈال رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔
أكدت باكستان أنها ستقف إلى جانب السعودية في حال وقوع هجمات إيرانية، مهما كانت الظروف ومهما كان التوقيت. وبحسب بلومبرغ، فإن العلاقة بين الرياض وإسلام آباد قامت دائماً على مبدأ الوقوف المشترك في أوقات الأزمات والتحديات.