پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی کا تسلسل جاری، آج سٹاک ایکسچینج 126600 کی ریکارڈ حد بھی عبور کر گیا، بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں اب تک 2100 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے۔
پاکستان گزشتہ دو سالوں میں ایک معاشی معجزہ کر چکا ہے، ملکی معیشت کو اب کوئی خطرہ لاحق نہیں، افراطِ زر 40 فیصد سے صفر پر آ چکی ہے، بھارت کے ساتھ حالیہ مسلح کشیدگی بھی پاکستان کو معاشی طور پر پٹری سے نہیں اتار سکی۔
دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹس میں تنزلی کے باوجود پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 120,000 ہزار پوائنٹس کی ریکارڈ سطح عبور کرگیا۔
Global credit rating agency Moody's upgraded Pakistan's economic outlook from 'stable' to 'positive', raising the country's credit rating from 'Caa3' to 'Caa2' amid improving financial stability.
چین نے پاکستان کو قرض کی واپسی میں ایک سال کی توسیع دے دی، جس سے معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوگی۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گا۔
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔