پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی کا تسلسل جاری، آج سٹاک ایکسچینج 126600 کی ریکارڈ حد بھی عبور کر گیا، بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں اب تک 2100 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے۔
پاکستان گزشتہ دو سالوں میں ایک معاشی معجزہ کر چکا ہے، ملکی معیشت کو اب کوئی خطرہ لاحق نہیں، افراطِ زر 40 فیصد سے صفر پر آ چکی ہے، بھارت کے ساتھ حالیہ مسلح کشیدگی بھی پاکستان کو معاشی طور پر پٹری سے نہیں اتار سکی۔
دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹس میں تنزلی کے باوجود پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 120,000 ہزار پوائنٹس کی ریکارڈ سطح عبور کرگیا۔
Global credit rating agency Moody's upgraded Pakistan's economic outlook from 'stable' to 'positive', raising the country's credit rating from 'Caa3' to 'Caa2' amid improving financial stability.
چین نے پاکستان کو قرض کی واپسی میں ایک سال کی توسیع دے دی، جس سے معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوگی۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔
أكدت باكستان أنها ستقف إلى جانب السعودية في حال وقوع هجمات إيرانية، مهما كانت الظروف ومهما كان التوقيت. وبحسب بلومبرغ، فإن العلاقة بين الرياض وإسلام آباد قامت دائماً على مبدأ الوقوف المشترك في أوقات الأزمات والتحديات.