پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخی بلندیوں کا سفر، سٹاک ایکسچینج میں 111700 کی نفسیاتی حد عبور ہو گئی، سٹاک ایکسچینج بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں 1789 سے زائد پوائنٹس اضافہ کے ساتھ 1 لاکھ 11 ہزار 700 پوائنٹس کی سطح عبور۔
The Pakistan Stock Market continues its historic bullish trend, with the KSE 100 Index surpassing the psychological threshold of 110,000 points. The benchmark index surged by over 1,175 points, reaching an impressive 110,229 points, reflecting strong investor confidence and robust market momentum.
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی کا رجحان برقرار، سٹاک ایکسچینج میں 1 لاکھ 10 ہزار کی نفسیاتی حد عبور ہو گئی، سٹاک ایکسچینج بینچ مارک KSE ہنڈرڈ انڈیکس میں 1 ہزار 175 سے زائد پوائنٹس اضافہ کے ساتھ 1 لاکھ 10 ہزار 229 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
پاکستان میں مہنگائی کی شرح نومبر میں کم ہوکر 4.9 فیصد تک آگئی ہے، جو 2018 کے بعد سب سے کم ترین سطح ہے۔ مہنگائی میں کمی مؤثر مالیاتی پالیسیوں اور سپلائی چین میں بہتری کا نتیجہ ہے جو کاروباری اداروں اور گھریلو صارفین کیلئے امید کی نئی کرن اورمعاشی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
Pakistan’s stock exchange hits a record 103,000 points as the KSE 100 index surges, driven by policy reforms and investor confidence. High trading volumes highlight strong momentum for economic growth.
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔