عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
الیکشن کمیشن نے بیرسٹر گوہر کو تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا چیئرمین تسلیم کرنے سے انکار کر دیا؛ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ کے حکمِ امتناع کے باعث زیرِ التواء ہے لہذا کمیشن بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
عمران خان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا کہہ دیا ہے، جوڈیشل کمیشن کا اعلان نہ ہونے کی صورت میں مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے، تحریکِ انصاف کو کسی بیرونی مدد کا انتظار نہیں ہے، عمران خان اپنا مقدمہ پاکستانی عدالتوں میں ہی لڑیں گے۔
عمران خان نے 2014 میں سول نافرمانی کا اعلان کرتے ہوئے عوام کے سامنے بجلی کا بل جلایا اور بجلی کے بل نہ دینے کا کہا، جبکہ ان کے اپنے بنی گالہ گھر میں سولر پینلز لگے ہوئے تھے۔ وہ سیاسی فائدے کے لیے خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال بنا کر استعمال کرتے ہیں۔ دوسروں کی بیٹیوں اور بیگمات پر اعتراض کرنیوالوں کو اپنی باری آنے پر موروثیت پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.
فرانس نے بھارت کو رافیل کے بنیادی سوفٹ ویئر و حساس سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، موجودہ شرائط کے مطابق الیکٹرونک و سوفٹ وئیر ساخت پر حتمی کنٹرول فرانس کا رہے گا۔ بھارتی فضائیہ میں سکواڈرنز کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔
The Guardian was entitled to publish Mahrang Baloch’s testimony. But readers should read it for what it is: a partisan account, sharply written and emotionally potent, not a settled version of events.