The JF-17 arrives in Riyadh with momentum after the May clash reignited scrutiny of air power, and Pakistan is using the spotlight to pitch an export package built around training, sustainment and reliability.
ترکی سعودی عرب اور جوہری صلاحیت رکھنے والے پاکستان کے درمیان قائم دفاعی اتحاد میں شمولیت کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ، جس میں کسی ایک رکن پر حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، نیٹو کے آرٹیکل فائیو سے مشابہ ہے اور اس میں ترکی کی شمولیت مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نمایاں طور پر بدل سکتی ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر رسمی سفارتی انداز کے ساتھ تیزی سے ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے بیک وقت واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران تک روابط برقرار رکھے ہیں جبکہ بھارت اِس بدلتے سفارتی منظر نامہ پر بےچینی محسوس کر رہا ہے۔
سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے ریاض میں ملاقات کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنٹ کلاس پیش کیا، جبکہ سعودی بیان میں اسے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات اور دفاعی تعاون مضبوط بنانے کی کوششوں کا اعتراف قرار دیا گیا۔
Saudi Defence Minister Prince Khalid bin Salman awards Field Marshal Asim Munir the King Abdulaziz Medal of the Excellent Class by order of King Salman, with Riyadh citing efforts to strengthen strategic and defence ties.
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔