پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کی صَف اَوَّل میں کھڑا ہو گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے قریبی تعلقات اور امریکا ایران تنازع میں اسلام آباد کی مؤثر سفارتکاری نے پاکستان کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ اِن حالات میں عمران خان کی واپسی کے امکانات کمزور ہوتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ فی الحال نظام تبدیل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں آخری لمحوں میں تقریباً ناکامی کے دہانے پر پہنچ چکی تھیں، مگر پاکستان نے رات بھر کی سفارت کاری سے نہ صرف جنگ بندی بچانے میں مدد دی بلکہ واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی راہ پر بھی گامزن کردیا۔
أجرى رئيس الوزراء الباكستاني شهباز شريف اتصالاً هاتفياً مع ولي العهد السعودي، جدّدت خلاله باكستان دعمها الثابت لقيادة المملكة وشعبها في أعقاب الهجمات على مصفاة الجبيل النفطية، فيما أشاد الأمير محمد بن سلمان بالجهود الباكستانية الرامية إلى استعادة السلام في المنطقة.
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک گفتگو؛ الجبیل آئل ریفائنری پر حملوں کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی قیادت اور عوام کیلئے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ، شہزادہ محمد بن سلمان نے خطہ میں امن کی بحالی کیلئے پاکستانی کوششوں کو سراہا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Senior US Congressman Jack Bergman, Co-Chair of the Congressional Pakistan Caucus, has formally thanked Prime Minister Shehbaz Sharif and Field Marshal Asim Munir for Pakistan's role in the ongoing US-Iran peace negotiations, describing Islamabad's contribution as "indispensable" and a demonstration of "true statesmanship" in a letter dated 15 May and sent on House of Representatives letterhead.
اسلام آباد کی بڑھتی سفارتی حیثیت نے اسے بیانیے کی جنگ کا ہدف بنا دیا ہے۔ نیتن یاہو کے بیانات سے لِنڈسے گراہم کی تنقید تک اور بھارتی میڈیا کے منظم بیانیہ سے پاکستان کے اندر نئے دہشتگردانہ حملوں تک ایک نئی مخالفانہ لَہر اُبھرتی دکھائی دے رہی ہے۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.