وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے طالبان حکومت کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہوگی اور “دما دم مست قلندر” ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی بلکہ ہمسایہ ہونے کے ناتے زمینی حقائق اور حالات سے پوری طرح واقف ہے اور تمہاری اوقات بھی جانتی ہے۔
پاک فوج پوری قوم کی فوج ہے، ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں روزانہ قربانیاں دے رہے ہیں، فوجیوں کی گردنیں تن سے جدا کر دی جاتی ہیں، فوج اپنے خون سے حلف کی تائید کر رہی ہے، افغانستان سے کوئی محبت نہیں، شہداء کے خون کے ہر قطرے کا حساب لیں گے۔
پنجاب دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، دہشتگردوں کو اُڑا کر رکھ دینا چاہیے۔ دفاعِ وطن میں قربانیاں دینے والوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں۔ ایف سی استعداد بڑھانے کیلئے پنجاب حکومت 10 ارب روپے فراہم کرے گی۔
بھارتی ریاست منی پور میں سیکیورٹی فورسز اور مسلح گروہوں کے درمیان شدید جھڑپوں کے باعث حالات کی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔ کرفیو کے نفاذ اور انٹرنیٹ کی مکمل طور پر بندش نے نظامِ زندگی کو مفلوج کر دیا۔ حکام کیلئے صورتحال پر قابو پانا چیلنج بن گیا۔
پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی حالیہ وارداتیں ہائبرڈ جنگ کی منظم لہریں اور بھارتی ’’آپریشن سندور‘‘ کا تسلسل دکھائی دیتی ہیں۔ ملکی بقاء اور سلامتی کیلئے دشمن قوتوں کے عزائم کو شکست دینا ہو گی جس کیلئے قومی اتحاد، مسلسل و مؤثر ریاستی پالیسیز اور سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یورپ میں لگژری پراپرٹیز و فائیو سٹار ہوٹلز سمیت وسیع سرمایہ کاری سلطنت رکھتے ہیں جو لندن سے جرمنی و سپین تک ہے۔ مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے سوئس بینک اکاؤنٹس و برطانوی پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔