Seven foreign leaders phoned Prime Minister Shehbaz Sharif within 24 hours, publicly praising Pakistan’s role in securing the U.S.-Iran ceasefire and signalling a rare burst of direct diplomatic recognition for Islamabad.
Senior Indian Congress leader Shashi Tharoor has said India should welcome, not resent, Pakistan’s role in helping secure a US–Iran ceasefire, arguing that peace in the region is not a zero-sum outcome.
پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کی صَف اَوَّل میں کھڑا ہو گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے قریبی تعلقات اور امریکا ایران تنازع میں اسلام آباد کی مؤثر سفارتکاری نے پاکستان کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ اِن حالات میں عمران خان کی واپسی کے امکانات کمزور ہوتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ فی الحال نظام تبدیل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں آخری لمحوں میں تقریباً ناکامی کے دہانے پر پہنچ چکی تھیں، مگر پاکستان نے رات بھر کی سفارت کاری سے نہ صرف جنگ بندی بچانے میں مدد دی بلکہ واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی راہ پر بھی گامزن کردیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو، ایران نے رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کر دی۔ مسعود پزشکیان نے عارضی جنگ بندی میں پاکستانی کوششوں کو سراہا اور پاکستانی عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔