پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کیلئے پس پردہ سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے، شہباز شریف کی تہران سے گفتگو، اور اسحاق ڈار کی علاقائی سفارت کاری نے اسلام آباد کو ایک ممکنہ مذاکراتی مرکز کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔
Pakistan is quietly but actively positioning itself as a possible mediator in the US-Iran crisis, with its military and political leadership engaging Washington, Tehran and Gulf capitals in an effort to prevent the conflict from widening and to bring diplomacy back to the table.
پاکستان ایران بحران میں خاموش مگر اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے، وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی قیادت سے گفتگو اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی علاقائی سطح پر سرگرمیوں نے اسلام آباد کو ایک ممکنہ ثالثی مرکز کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔ پاکستان بظاہر جنگ کے بجائے بات چیت، رابطے اور کشیدگی میں کمی کی راہ کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان رابطہ؛ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور ممکنہ جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کیلئے ثالثی کے کردار میں متحرک، اسلام آباد نے سفارتی سطح پر بیک چینل رابطے بھی تیز کر دیے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول پر لیوی بڑھا کر 300 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق اس فیصلے سے ماہانہ تقریباً 9 ارب روپے کی بچت ہو گی اور عام صارفین کے زیر استعمال ایندھن، پبلک ٹرانسپورٹ اور فضائی کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.
Prime Minister Shehbaz Sharif says Pakistan has received Iran’s response, signalling that Islamabad’s mediation channel remains active as regional diplomacy enters a sensitive phase.
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث عوام سراپا احتجاج، وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا۔ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔