فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر رسمی سفارتی انداز کے ساتھ تیزی سے ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے بیک وقت واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران تک روابط برقرار رکھے ہیں جبکہ بھارت اِس بدلتے سفارتی منظر نامہ پر بےچینی محسوس کر رہا ہے۔
Iran reaffirms political and moral support for Hamas but rules out military intervention during a recent meeting between Ayatollah Ali Khamenei and Ismail Haniyeh.
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول پر لیوی بڑھا کر 300 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق اس فیصلے سے ماہانہ تقریباً 9 ارب روپے کی بچت ہو گی اور عام صارفین کے زیر استعمال ایندھن، پبلک ٹرانسپورٹ اور فضائی کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
عمران خان کو 2030 سے قبل ریلیف نہیں مل سکتا، نو مئی ریاست سے بغاوت تھی۔ جسٹس ثاقب نثار و دیگر ججز نے پاکستان کے جوڈیشل سسٹم کا ڈھانچہ تباہ کیا۔ میں ایک جج پر نظریں جمائے بیٹھا ہوں، مناسب وقت پر آگے بڑھوں گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیم نے ایران سے ممکنہ مذاکرات کے لیے پسِ پردہ منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت جیسے اہم معاملات زیرِ غور ہیں، جبکہ تہران جنگ بندی، مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت اور نقصان کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
موجودہ علاقائی کشیدگی میں پاکستان نے اشتعال انگیزی کے بجائے توازن، سفارت کاری اور داخلی استحکام کو ترجیح دی ہے۔ اصل خطرہ صرف بیرونی محاذ نہیں بلکہ فرقہ واریت، افواہوں اور داخلی تقسیم کو ہوا دینے والی کوششیں بھی ہیں، جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی داخلی یکجہتی ہے۔
انتهت الثقة في إيران بالكامل. السعودية لا تخشى المواجهة، وتحتفظ بحقها في الرد العسكري عند الضرورة. وإذا كانت طهران تعتقد أن دول الخليج لا تملك القدرة على الرد، فهي واهمة. وإيران لن تتوقف ما لم تواجه رداً قوياً وحازماً