خوف اور دہشت پھیلانے والا نظام ختم کر دیا گیا ہے، اب قانون ہاتھ میں لینا ممکن نہیں رہا۔ وفاقی حکومت کی ٹی ایل پی پر پابندی کے بعد ان کے اثاثوں کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔ یہ اقدام کسی جماعت نہیں بلکہ انتشار پھیلانے والے عناصر کے خلاف ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ثابت کیا کہ بہادری اور عوامی خدمت ساتھ چل سکتے ہیں۔
فیض آباد دھرنے کے بعد سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مسلسل ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، کسی کو قتل کے فتوے جاری کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بےبنیاد الزام لگانے والے کی وہی سزا ہے جو اس الزام کے مرتکب فرد کو دی جاتی ہے، ریاست مذہب، سیاست یا ذاتی مفادات کے نام پر کوئی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گی۔
فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ مایوس کن ہے، ایسا لگتا ہے کہ رپورٹ صرف جنرل (ر) فیض حمید کو کلین چِٹ دینے کیلئے بنائی گئی ہے، اگر فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد ہوتا تو 9 مئی کا سانحہ پیش نہ آتا۔
عمران خان پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ”سپائلٹ براٹ“ ہے، یہ اسٹیبلشمنٹ کا وہ لےپالک بچہ ہے جس کو مارشل لاء کی بجائے جمہوری ادوارِ حکومت میں گود لیا گیا، اس کی غیر آئینی خواہشات کی تکمیل کیلئے ریاستی نظام درہم برہم کیا گیا۔
پراجیکٹ عمران خان کی کامیابی کیلئے تیار کی گئی سازشوں میں خطرناک ترین مذہب کارڈ تھا جبکہ مذہب کارڈ کے تحت جمہوری حکومت پر کیے گئے حملوں میں خطرناک ترین فیض آباد دھرنا تھا۔
Zulfikar Bukhari's remarks to Reuters, describing a freed Imran Khan as unwilling to confront army chief Asim Munir, don't just shift PTI's tone. Coming from one of Khan's closest aides, they quietly kill the "dut kar khara hai kaptaan" promise that has held the party's base together for two years.
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔