Pakistan’s military spokesperson, DG ISPR Lt Gen Ahmed Sharif Chaudhry, said that individuals currently in Afghanistan are not Pakistani refugees but fugitive terrorists who fled during counterterrorism operations. He warned that the nexus between political elements, terrorists, and criminal networks remains the biggest obstacle to Pakistan’s war on terror, calling for unified national efforts to dismantle these connections and restore lasting peace.
افغانستان میں موجود افراد پاکستانی مہاجرین نہیں بلکہ وہ دہشت گرد ہیں جو انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے بعد وہاں روپوش ہو گئے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی رکاوٹ کچھ سیاسی عناصر اور مجرمانہ نیٹ ورکس کا باہمی گٹھ جوڑ ہے۔
Pakistan’s Defence Minister Khawaja Asif has accused Afghanistan’s Taliban-led government of supporting terrorism under Indian patronage and spreading false narratives to conceal its internal divisions and governance failures. Speaking through an official statement on X, Asif said there is complete consensus among Pakistan’s political and military leadership on security and foreign policy toward Afghanistan, emphasising that Islamabad’s approach remains rooted in peace, stability, and the national interest.
افغان حکومت بھارتی سرپرستی میں دہشتگردی کی پشت پناہی کر رہی ہے، افغان حکومت اپنی ناکامیوں اور داخلی عدم استحکام پر پردہ ڈالنے کیلئے بیرونی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے، پاکستان خطہ میں قیامِ امن استحکام کیلئے پُرعزم اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہے۔
After failed negotiations with the Afghan Taliban in Doha and Istanbul, Pakistan warned it would take all necessary steps to protect its citizens and eliminate militant groups it blames for cross-border attacks, signalling a potential escalation in regional tensions.
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔