پاکستان نے افغان طالبان سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دہشت گردوں، ان کے ٹھکانوں اور معاونین کے خلاف ہر ممکن کارروائی کی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی بُڈاپیسٹ (ہنگری) میں ملاقات کا فیصلہ کس نے کیا؟ صحافی کے سوال کے جواب میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ کا جواب: تمہاری ماں نے۔
پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو اب وطن واپس جانا ہوگا، پچاس سال سے جاری افغان مہاجرین کی موجودگی اب ختم ہونی چاہیے۔ پاک افغان سرحد کو مکمل طور پر کنٹرول میں لایا جائے گا تاکہ غیرقانونی آمد و رفت، اسمگلنگ اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
ٹی ٹی پی کے لوگوں کو ہم نہیں بلکہ جنرل (ر) فیض حمید لائے تھے، ہماری مت ماری گئی تھی کہ وہ ہمارے پسندیدہ تھے، عمران خان ناجائز کیسز میں پابندِ سلاسل ہیں، قانون کی حکمرانی ہوتی تو تین سے چار روز میں رہا ہو جاتے، عمر عطا بندیال کمزور جج تھے جنہیں ڈرایا گیا اور وہ ڈر گئے۔
Per a new purchasing managers’ survey released by HBL and S&P, Pakistan’s manufacturing PMI rose to 50.9 in May, returning to expansion as new orders recovered and export orders posted their strongest rise since February 2025.
Pakistan’s major ports are seeing a sharp rise in container and transshipment activity as Gulf disruption redirects cargo towards Karachi, Port Qasim and Gwadar.
Iranian officials are preparing three days of farewell ceremonies and a 24-hour funeral procession for Ali Khamenei, with events expected in Tehran, Qom and Mashhad.
Trump reportedly warned Netanyahu against further escalation in Lebanon as US-Iran diplomacy faced renewed pressure, with Pakistan and Qatar involved in efforts to preserve a fragile regional framework.