پتنگ بازی تفریح نہیں بلکہ خونی کھیل بن چکا، سخت کارروائی کی جائے، وزیرِ اعلٰی پنجاب مریم نواز

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور وزیرِ اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کی فیصل آباد میں پتنگ کی دھاتی ڈور پھرنے سے جاں بحق ہونے والے نوجوان آصف اشفاق کے گھر آمد اور اظہارِ تعزیت، وزیرِ اعلٰی کا پتنگ بازی سے منسلک عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم۔

Translating from the Urdu… 0 of 2 Read the original

A file photo is shown of Chief Minister for the Punjab, Maryam Nawaz, at Faisalabad on March 25, 2024. — FILE/THE THURSDAY TIMES
A file photo is shown of Chief Minister for the Punjab, Maryam Nawaz, at Faisalabad on March 25, 2024. — FILE/THE THURSDAY TIMES

فیصل آباد (تھرسڈے ٹائمز) — سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور وزیرِ اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کی فیصل آباد میں پتنگ کی دھاتی ڈور پھرنے کے باعث جاں بحق ہونے والے نوجوان آصف اشفاق کے گھر آمد، اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور فاتحہ خوانی کی۔

اس موقع پر پتنگ کی دھاتی ڈور پھرنے سے جاں بحق ہونے والے آصف اشفاق کے والدین غمزدہ نظر آئے، والدہ نے روتے ہوئے بتایا کہ ہم بہت جلد آصف کی شادی کرنے والے تھے، وزیرِ اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف نے جاں بحق ہونے والے نوجوان کی والدہ کو گلے لگا کر تسلی دی جبکہ مرحوم کے اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ ہمارا آصف چلا گیا لیکن کسی اور کا آصف نہیں جانا چاہیے۔

قائدِ مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف نے کہا کہ اس جرم کو روکنا ہو گا، اس قدر خوفناک ویڈیو نہیں دیکھی جاتی۔ وزیرِ اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں بھی ایک ماں ہوں اور ماؤں کے دکھ کو سمجھ سکتی ہوں، آصف اشفاق کی دردناک موت پورے معاشرے کیلئے لمحہِ فکریہ ہے، پتنگ بازی تفریح نہیں بلکہ ایک خونی کھیل بن چکا ہے، والدین اپنے بچوں کو پتنگ بازی سے روکیں اور اپنی سماجی ذمہ داری ادا کریں، دھاتی ڈور بنانے، بیچنے اور خریدنے پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ وزیرِ اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامیہ کو پتنگ بازوں اور پتنگ فروشوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دے رکھا ہے جبکہ پنجاب بھر کی طرح فیصل آباد میں بھی پتنگ ساز فیکٹریز اور پتنگ فروش عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔∎

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.