زوہران ممدانی نے نیویارک میئر کا الیکشن جیت کر تمام پیش گوئیاں غلط ثابت کرتے ہوئے شہر کی سیاست کا نقشہ بدل دیا

زَوہران ممدانی نے نیویارک سٹی کے میئر کا الیکشن واضح اکثریت سے جیت لیا۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش عوام کی طاقت اب ان کے ہاتھ میں ہے اور وعدہ کیا کہ وہ شہر کو سب کے لیے مساوی اور قابلِ برداشت بنائیں گے۔

Translating from the Urdu… 0 of 3 Read the original

Zohran Mamdani wins the New York City mayoral election in a historic victory, vowing to build a fairer and more inclusive city for all. — FILE
Zohran Mamdani wins the New York City mayoral election in a historic victory, vowing to build a fairer and more inclusive city for all. — FILE

نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — زَوہران ممدانی نے نیویارک سٹی کے میئر کا الیکشن تاریخی کامیابی کے ساتھ جیت لیا، جسے شہر کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی انتخابی مہم نے سستے رہائش، مزدوروں کے حقوق، اور سماجی انصاف جیسے عوامی مسائل پر توجہ دیتے ہوئے ہزاروں رضاکاروں اور ووٹرز کو متحد کیا۔

فتح کے بعد نیویارک کے علاقے کوئنز میں خطاب کرتے ہوئے ممدانی نے کہا، سورج شاید آج ہماری سٹی پر غروب ہو گیا ہو، مگر میں انسانیت کے بہتر دن کا سویرا دیکھ رہا ہوں۔ برسوں سے نیویارک کے محنت کشوں کو بتایا جاتا رہا کہ طاقت ان کے ہاتھ میں نہیں۔ لیکن آج آپ نے وہ طاقت اپنے ہاتھوں میں لے لی ہے۔ مستقبل اب ہمارے ہاتھ میں ہے، ہم نے ایک سیاسی سلطنت کو گرا دیا ہے۔

ممدانی، جو 32 سالہ یوگنڈا نژاد بھارتی امریکی اور ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہیں، نے اپنی تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا، ڈونلڈ ٹرمپ، مجھے معلوم ہے آپ دیکھ رہے ہیں، میرے پاس آپ کے لیے صرف چار الفاظ ہیں، آواز ذرا اونچی کر لیں۔

انہوں نے اپنی شناخت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا، میں جوان ہوں، میں مسلمان ہوں، میں ایک ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہوں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میں ان باتوں پر کبھی معافی نہیں مانگوں گا۔

ممدانی نے عزم ظاہر کیا کہ وہ ہر اس ڈالر کے لیے لڑیں گے جو شہر کا حق ہے اور قانون و انصاف کے ذریعے عوام کے مفاد کے لیے کام کریں گے۔ ان کی جیت نے نیویارک میں ترقی پسند سیاست کو ایک نئی سمت دی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ عوامی تحریک تبدیلی لا سکتی ہے۔∎

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.